زکات : مال کو پاک اور بابرکت بنانے کا ذریعہ

Zakat

اسلام ایک افاقی دین ہے اور اسکا ہر نظام حسبِ فطرت ہے ۔اسلام کے بنیادی ارکانوں  میں سےایک زکات  بھی ہے۔ زکات ہر انسان کے مال میں اللہ کی امانت ہے۔ زکات  لوگو ں پر اس لئےفرض کیا گیا تاکہ فقرأومساکین  اور ضرورت مندبھی اپنےزندگی کے ایام کو بحسن و خوبی کے ساتھ گزار سکیں اور ساتھ ہی مجبوری  کے حالات میں فاقہ کشی سے دوچارنہ ہوں۔ اللہ کے رسولﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ صدقہ مال کم نہیں کرتاہے بلکہ اس میں اور اضافہ کرتاہے ۔

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ(سبا)

کچھ خرچ کرتے ہو، اس کا بدلہ عطا کر دیتا ہے۔  اللہ بہترین رزق والا ہے۔

انسان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ جس کی امانت ہے یعنی خدائے برحق کے بتائے ہوئے اصولوں سے ہمکنار ہو کر ہی صحیح معنوں میں حق ادا کر سکتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ اداکرنےکے لئے زکوۃ کی رقم کوئی بہت ہی زیادہ نہیں بتائی گئی  بلکہ حقیرسا حصہ  صرف     ٪2.5 ہے ۔مگر اجرکے اعتبار سے بہت ہی عظیم ہےزراعت پر الگ اصول ہے ،نقد پر الگ اور دوسری چیزوں پر مختلف ہے۔  زکات کی اہمیت و افادیت اسی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ قرآن مجید میں نماز جیسی عبادت  کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے  اگر  مالدار /اہل ثروت فقراء و مساکین کا حصہ ادا نہیں کرتے جو اس کے مال میں ہے شریعتاً یاحکم خداوندی کے اعتبار سےتو اس سے جنگ کیا جائے اسی لئے  صحابہ عظام نے مخالفین  و مانعین زکات سے جنگ کو مباح اور ویسے لوگوں کومرتد قرار دیا  گیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فرمانا ہےکہ  اللہ کی قسم اےلوگوں ! اگر کسی نے بکری کا ایک بچہ بھی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کو دیا اور مجھے دینے سے انکار کیاتو  اس سےجنگ  کروں گا اللہ کے لیے آخری سانس تک۔  یہ زکات کی اہمیت وفضیلت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کسی کوبھی  اہل ثروت اپنے فضل و کرم سے بناتا ہے اور چاہتا ہےکہ  وہ مال کو اپنی مرضی سے خرچ نہیں کرے،کیونکہ وہ اس کا مالک نہیں بلکہ میرے بتائے ہوئے طریقے سے خرچ  کرے ، میرے بتائے ہوئے راستے میں لوگوں پر صرف کریں اور وہ مال کو اپنا  نہ سمجھیں  بلکہ امانت  سمجھتے ہوئے اللہ کا شکر اداکریں کہ اس نے اسے منتخب کیا۔

اپنے مال کا تذکیہ  کریں، زکات کا مطلب ہی ہوتا ہے مال کا تذکیہ کرنا  تذکیہ کرنے سے حقیقی وخالص چیزیں برآمد ہوتی ہیں۔ جس طرح  وضو جسمانی اعضاء کو،نماز روح کو ٹھیک اسی  طرح زکات  مال کو پاک و صاف  کرتی ہے ۔ زکات مال میں  برکت و اضافہ کر تی ہے،ظاہری طور پر لگتا ہے کہ مال  کم  ہوگیا مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ  متعین   حصہ مالدار کا ہے  ہی نہیں بلکہ شراکت داروں کا ہے۔

زکات کوزکات المال  بھی کہتے ہیں کہ یہ مال زکات سے اداہوتا ہے۔ زکات نکال کر کوئی شخص احسان نہیں کر تا بلکہ حقداروں کا حق ادا کرتا ہے۔   اگر اسےادا نہیں کیا جائے تو  یہاں بھی خسارہ  میں رہیں گے اور وہاں بھی پکڑ ہوگی۔ وہ اس طرح سے کہ مال  دینے والے رزاق کو ناراض کیا۔  وہ کسی اور کو اس نعمت جیسی چیز سے نواز د یگا اور اس شخص  کے اوپر سے یہ فضل  جاتا رہے گا۔

دوسرا یہ کہ  روز قیامت یہ مال ،وبال جان ہوگا اور صحیح معنوں میں جو حقدار ہیں وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکایت کرےگا  کہ دنیا میں اس نے میرا حق ادا نہیں کیا ،تیرے بتائے ہوئے طریقے سے ۔

ایک بات اور کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ زکات ادا کردیا اور ہم بری الذمہ ہو گئے اب ہمیں کسی پر کچھ صرف کرنےکی ضرورت نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے زکات  کے علاوہ بھی صرف کرتے رہنا چاہیئے زکات کسی کو بھی دے دینے سے ادانہیں ہوتا بلکہ حقیقی جگہ پر اداکرنا ضروری ہے۔

مال کو  فاسد ہونے سے بچانے کے لیے زکات  ادا کرنا ہوگا نہیں تو برکت کی جاتی رہی رہے گی ۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ  زکات نکالو کیونکہ وہ پاکی ہے جوتمہیں    پاک وصاف کردے گی   اور اپنے قرابت داروں سے  صلہ رحمی کا برتا ؤکرو ،مسکینوں ،پروسیوں اور سائلوں کے حق ادا کرو۔

مال مستقل طور پر کسی کے پاس نہیں رہتا اور اگر رہتاہے تو انسان نہیں رہتا ہے ۔ اسلیئے جب اللہ کافضل وکرم وارد ہو مال کی شکل میں  یا کسی بھی شکل میں تواسکا پوراپورا حق ادا کیا کرو۔خیال وگمان میں بھی یہ مت لاؤ کہ یہ تو ہم نے اپنی عملی صلاحیت ، دانشمندی ،عقل و شعور ،فہم وفراست  سے حاصل کیا ہے ۔ یہ بہت بڑی نادانی ہے۔ بلکہ اس مالک حقیقی کا شکریہ اداکرو کہ اس نے تمہیں چنا۔

زکات کی فرضیت :۔ تفسیر ابن کثیر کے مطابق زکات کی فرضیت اوائل اسلام ہی میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکی تھی۔

نصاب زکات : اسلام کے ابتدائی دور میں زکات کیلئے کوئی خاص نصاب یا مقدار متعین نہ تھی بلکہ اس کا تعین ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ہوا۔مسلمانو ں کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد جومال بچ جاتا تو اسے وہ اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

نصاب زکات ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی  جو موجودہ  دور کے حساب سے 87.48 گرام سونا یا 612.36 گرام چاندی  یا اس کی قیمت کے برابر ہو تو اسے صاحب نصاب سمجھا جائےگا۔ایک سال گزر نے پر اس پر زکات اداکرنا واجب ہوگا۔

زکات کی مقدار :۔ زکات نقد اورمال تجارت پر ڈھائی (2.5) فیصدہے ۔زکات کی رقم ڈھائی سے لیکر بیس فیصد  کےبیچ میں ہے۔

مستحب ہےکہ زکات کی رقم کی ادائیگی کا مہینہ متعن ہو اور اس مہینہ میں ہر سال (قمری مہینہ کے حساب سے سال مکمل ہونےپر) اپنے مال کا حساب وکتاب کرکے ادا کرے عام طور پر کچھ لوگ ماہ رمضان اورکچھ ماہ محرم میں اسکااہتمام کرتے ہیں ۔ زکات کو مؤخر کرکے اداکرنے سے بچنا چاہیے لیکن  ضرورتاً قبل از وقت ادائیگی درست ہے ۔ مثلاً ابھی کے حالات کے پیش نظر۔

مصارف زکات / زکات کے مستحقین :۔ آٹھ مصارف میں زکات خرچ کرنا واجب ہے انہیں اللہ تعالی نے بالکل واضح  لفظوں میں بیان فرمایا ہے، اور یہ بھی بتلایا کہ  انہی مصارف  میں زکات خرچ کرنا واجب ہے، اور یہ علم و حکمت پر مبنی فیصلہ ہےچنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور [زکات جمع کرنے والے]عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ [التوبة:60]

مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ زکات کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔ فقراء :۔ زکات کے سب سے زیادہ حقدار فقراءہیں فقراءکے معنی ہوتا ہے جس کے پاس کچھ  نہ ہو

مساکین:۔   مساکین اسے کہتے ہیں جن کے پاس نصاب سے کم ہو، مطلب ان کے پاس کھانے پینے کو تو ہو مگر کم ہو۔  اس لئے یہ بھی زکات کے حقدار ہیں۔

 عاملین:۔ ویسے لوگوں کے لئے استعمال ہو  جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات و زکات وصول نے پر مامور ہوں۔

 مولفۃ القلوب :۔اس سے مراد ویسے لوگ ہیں جن کی دل جوئی کی جائے صدقات سے، مفسرین کے نزدیک اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں مثلا ً مسلم، غیر مسلم ،نومسلم، غریب  اور ضرورتمند وغیرہ ۔

فی الرقاب:۔ رقبہ  کے معنی گردن کے ہیں یعنی پھسی ہوئی گردن کو چھڑایا جائے ، جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک اس سے مراد غلام ہیں۔   غلام کو چھڑانے کے لیے  اس کے آقا کو زکات سے ایک خاص رقم دی جائے ۔

الغارمین :۔غارم کی جمع غارمین ہے   جس کے معنی قرضدار کے ہیں غارمین سے مراد ویسے لوگ ہیں جو قرض میں مبتلا ہیں اور اس کی استطاعت سے باہر ہے ادائیگی تو اس کی زکات سے مدد کی جاسکتی ہے قرض کی ادائیگی کیلئے ۔مگر تفسیر قطبی کے مطابق یہ دھیان رہے کہ قرض کسی ناجائز کام کے لئے تو نہیں لیا گیا تھا۔

  فی سبیل اللہ :۔ فی سبیل اللہ کے معنی ہوتے ہیں اللہ کے راستے میں کوشش کرنے والا۔ جمہور علماء و فقہاء نے اس سے مراد مجاہدین اور حجاج لی ہے۔ اوربعض نے اس سے ہر طرح کے نیک فعل  کو شامل کیا ہے  جو اللہ کے واسطے میں ہوں مثلا ً مساجد، مدارس اورشاہراہ وغیرہ کی تعمیر کروانا جو عام لوگوں کیلئے فائدہ مند ہو۔

  ابن سبیل :۔ اس سے مراد مسافر ہیں ویسا مسافر جو گھر پرصاحب مال تو مگر کسی وجہ سے سفر میں بقدرضرورت مال نہ ہو۔ مطلب اپنے وطن میں کتنا ہی مال کیوں نہ ہو مگر جب کسی دوسرے ملک یا شہر میں محتاج ہو گیا ہو تو ایسے شخص کو زکات کی رقم دی جا سکتی ہے۔ جس سے کہ وہ اپنے گھر واپس پہنچ سکے ۔

نوٹ: ۔  اپنے عزیز و اقارب کو زکات و صدقات دینے میں ترجیح دینا چاہیے  اگر وہ مستحق ہو، کیونکہ اس میں دوہرا ثواب ہے ایک تو صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا ۔ بھائی بہن ،چچا چچی ،پھوپھاپھوپھی، ماموں ممانی، خالوخالہ ،ساس سسر  اور  سالہ سالی کو زکات دیا جا سکتا ہے ۔

زکات صرف مسلمانوں کو ہی دیا جائے مگر فطرہ غیر مسلموں کو بھی دے سکتے ہیں۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں