قربانی کی اہمیت و فضیلت

Qurbani

قربانی، اللہ تعالٰی سے غیر مشروط محبت اور ایمان کی علامت ہے۔ عام طور پر مسلمان سنت ابراہیمی کی تکمیل کے لئے عید الاضحی کی نماز کے بعد جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ جسے قربانی یا ذبیحہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم مذہبی عمل ہے۔ جس کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث میں متعدد مقام پر بیان کیا گیا ہے۔

قربانی کا لغوی معنیٰ:

قربانی عربی زبان کے لفظ "قرب” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "کسی شئے کے نزدیک ہونا”۔

قربانی کا اصطلاحی معنیٰ:

جبکہ شرعی اصطلاح میں یعنی مخصوص دن میں اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کی نیت سے مخصوص جانور ذبح کرنا “قربانی” کہلاتا ہے۔

قربانی کی ابتداء:

قربانی ایک عظیم الشان عمل ہے کہ جس کی تاریخ روئے زمین پر اتنی وسیع ہے کہ شاید ہی کسی اور عمل کی تاریخ اس قدر وسیع ہو۔ حلال جانور کو اللہ رب العزت کی خوشنودی و رضا کے خاطر ذبح کرنے کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل وقابیل کی قربانی سے ہی شروع ہوجاتی ہے، یہ سب سے پہلی قربانی تھی، حق تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ (المائدہ :183)

ترجمہ:۔ اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز (قربانی) پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی۔

علامہ اِبن کثیر رحمہ اللہ نے اِس آیت کے تحت حضرت اِبن عباس رَضی اللہ عنہ سے رِوایت نقل کی ہے کہ ہابیل نے مینڈھے کی قربانی کی اور قابیل نے کھیت کی پیداوار میں سے کچھ غلہ صدقہ کرکے قربانی پیش کی، اُس زمانے کے دستور کے موافق آسمانی آگ نازل ہوئی اور ہابیل کے مینڈھے کو کھا لیا، قابیل کی قربانی کو چھوڑ دِیا۔

اِس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدَم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور اس کی حقیقت تقریباً ہر ملت میں رہی۔

البتہ اس کی خاص شان اور پہچان حضرت اِبراہیم و حضرت اِسماعیل علیہما السلام کے واقعہ سے ہوئی، اور اسی کی یادگار کے طور پر اُمتِ محمدیہ پر قربانی کو واجب قرار دیا گیا۔

قربانی کی اہمیت و فضیلت احادیث کی روشنی میں:

1:۔ عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما عمل ابن آدم من عمل یوم النحر احب الی اللّٰہ من اہراق الدم وانہ اتی یوم القیامة بقرونہا واشعارہا وظلافہا وان الدم لیقع من اللّٰہ بمکان قبل ان یقع بالارض فطیبوا بہا نفسا”۔(ترمذی:1493)

ترجمہ:۔”حضرت عائشہ رَضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یو م النحر (دسویں ذی الحجہ)میں اِبن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اوربال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو”۔

2:- عن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ قال: قال أصحاب رسول اللّٰہ: یا رسول اللّٰہ! ما ہذہ الأضاحی؟ قال: سنة أبیکم إبراہیم علیہ السلام، قالوا: فما لنا فیہا یا رسول اللّٰہ؟ قال: بکل شعرة حسنة، قالوا: فالصوف؟ یا رسول اللّٰہ! قال: بکل شعرة من الصوف حسنة”۔ (مشکوٰة المصابیح :129)

ترجمہ:۔”حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ راوِی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رَضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا: تمہارے باپ اِبراہیم علیہ السلام کا طریقہ (یعنی اُن کی سنت) ہے، صحابہ نے عرض کیا کہ پھر اس میں ہمارے لیے کیا (اجر وثواب) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: (جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک نیکی، اُنہوں نے عرض کیا کہ (دُنبہ وَغیرہ اگر ذبح کریں تو اُن کی) اُون (میں کیا ثواب ہے؟) فرمایا: کہ اُون کے ہربال کے بدلے ایک نیک”۔

3:- “عن أبی سعید رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا فاطمة! قومی إلی أضحیتک فاشہدیہا، فإن لک بأول قطرة تقطر من دمہا أن یغفرلک ما سلف من ذنوبک․ قالت: یا رسول اللّٰہ! ألنا خاصة أہلَ البیت أو لنا وللمسلمین؟ قال: بل لنا وللمسلمین”۔ ( الترغیب والترہیب2:772 )

ترجمہ:۔”حضرت ابو سعید رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی بیٹی حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس رہو (یعنی اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت قریب موجود رہو) کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے کے ساتھ ہی تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔ حضرت فاطمہ رَضی اللہ عنہا نے عرض کیا! اللہ کے رسول! یہ فضیلت ہم اہل بیت کے ساتھ مخصوص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے لیے بھی ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی”۔

4:- “عن علی رضی اللہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یا فاطمة! قومی فاشہدی ضحیتک، فإن لک بأول قطرة تقطر من دمہا مغفرة لکل ذنب، ما انہ یجاء بلحمہا ودمہا توضع فی میزانک سبعین ضعفا۔ قال ابو سعید: یا رسول اللّٰہ! ہذا لآل محمد خاصة، فانہم اہل لما خصوا بہ من الخیر، و للمسلمین عامة؟ قال: لآل محمد خاصة، وللمسلمین عامة”۔

(الترغیب والترہیب2:277)

ترجمہ:۔”حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے فاطمہ! اُٹھو اور اپنی قربانی کے پاس (ذبح کے وقت) موجود رہو؛  اِس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے، یہ قربانی کا جانور قیامت کے دِن اپنے گوشت اور خون کے ساتھ لایا جائے گا اور تمہارے ترازو میں ستر گنا (زیادہ) کرکے رَکھا جائے گا، حضرت ابوسعید نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فضیلت خاندانِ نبوت کے ساتھ خاص ہے جو کسی بھی خیر کے ساتھ مخصوص ہونے کے حق دار ہیں یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟ فرمایا: یہ فضیلت آلِ محمد کے لیے خصوصاً اور عموماً تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے”۔

5:- “عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یا أیہا الناس! ضحوا واحتسبوا بدمائہا، فان الدم وإن وقع فی الأرض، فإنہ یقع فی حرز اللّٰہ عز وجل۔”

( الترغیب والترہیب2:278)

ترجمہ:۔”حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر اجر وثواب کی اُمید رَکھو؛ اِس لیے کہ (اُن کا) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے؛ لیکن وہ اللہ کے حفظ وامان میں چلاجاتاہے”۔

6:- "عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من وجد سعة لان یضحی فلم یضح، فلایحضر مصلانا” ۔ (سنن ابن ماجہ 3:529 )

ترجمہ:۔ "حضرت ابو ہریرہ رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش رَکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہمارِی عیدگاہ میں نہ آئے”۔

7:- "عن حسن بن علی رضی اللہ عنہما قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ضحی طیبة نفسہ محتسباً لاضحیتہ کانت لہ حجاباً من النار۔”(المعجم الکبیر3:84)

ترجمہ:۔ حضرت حسن بن علی رَضی اللہ عنہ سے مروِی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: جو شخص خوش دِلی کے ساتھ اجر وثواب کی اُمید رَکھتے ہوئے قربانی کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رُکاوَٹ بن جائے گی۔

قربانی کے مقاصد:

مومن کی پوری زندگی اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ اسلام نے ان مقاصد کی تکمیل کے شرعی دستور وضع کئے تاکہ انسان احسن طریقے سے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرسکے۔ قربانی ایک عظیم الشان عمل ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک جانور قربان کر دینا ہی نہیں بلکہ تقویٰ وپرہیزگاری،خلوص للّٰہیت کی کیفیت پیدا کرنا اور بڑے سے بڑے ایثار کے لئے تیار ہونا ہے۔قربا نی دیگر مذاہب میں اگرچہ رائج تھی لیکن اسلام نے قربانی کے جو مقاصد بیان کئے ہیں وہ روحِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کر دیاہے۔ درج ذیل نکات میں ان کو زیربحث لایا جاتا ہے:

1۔ سنتِ ابراہیمی کا زندہ:

قربانی کا عمل وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک سنت ہے جسے امتِ محمدیہ ﷺ میں یادگار کے طور پر قیامت تک کے لئے محفوظ کر لیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ کورہنمائی کی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرتی رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَلِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا” ( الحج، 22: 34)

’’اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے‘‘

اللہ رب العزت کو اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عمل اس قدر پسند آیا کہ امت محمدیہ کے لیے اس کی پیروی کو عبادت قرار دے دیا۔

پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنی، اپنے اہل بیت اور قیامت تک آنے والی اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

أَنَّ رَسُولُ اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یُضَحِّيَ اشْتَرَی کَبْشَیْنِ عَظِیْمَیْنِ سَمِیْنَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ ِﷲِ بِالتَّوْحِیْدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَـلَاغِ، وَذَبَحَ الآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم. (ابن ماجه، کتاب الأضاحی، رقم: 3122)

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قربانی کاارادہ کرتے تو دو مینڈھے خریدتے جو موٹے تازے، سینگوں والے، کالے اور سیاہ دھاری دار ہوتے۔ ایک اپنی امت کی جانب سے ذبح کرتے جو بھی اللہ کو ایک مانتا ہو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا قائل ہو اور دوسرا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے ذبح فرماتے۔‘‘

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اعمال کی تقلید کرنے سے نہ صرف اُن کے اعمال کی یاد زندہ رہتی ہے بلکہ نیک عمل کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔ سنتِ ابراہیمی علیہ السلام کی پیروی کا عمل امتِ مسلمہ کو یہ یاد کراتا ہے کہ جس طرح آج اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے عمل کو زندہ رکھنے کے لیے جانور قربان کرتی ہے اسی طرح اس خون کو گواہ بنا کریہ وعدہ کرے کہ دین کی سربلندی کے لئے جان کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنا پڑا تو بھی دریغ نہیں کرے گی۔ یہ ذہن نشین رہے کہ اگر قربانی کے اندر یہ ایمانی جذبہ نہ ہو تو قربانی اپنے تقاضوں اور مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتی۔

2۔ رضائے الٰہی کا حصول

ہر عمل انسان کی شخصیت، نفس، قلب ا و ر ظاہر وباطن پر اثرات مرتب کرتا ہے لیکن کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے اللہ رب العزت کا خاص تقرب نصیب ہوتا ہے۔ انہیں اعمال میں سے قربانی ہے۔ وہی قربانی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرف مقبول ہوتی ہے جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نصب العین بھی یہی تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَنْ یَّنَالَ ﷲَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـکِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ. (الحج، 22: 37)

’’ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے‘‘

یہی سبب ہے کہ رضائے الٰہی کے لئے دی جانے والی قربانی کے خون کا قطرہ ابھی زمین پر نہیں گرتا کہ اللہ کی بارگاہ سے شرف قبولیت کا پروانہ جاری ہو جاتا ہے۔

4۔ ہدیۂ تشکر اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ

عید الاضحی کے دن قربانی کا ایک سب سے بڑا مقصد بارگاہِ رب العزت میں ہدیہ تشکرکا گلدستہ پیش کرنا بھی ہے۔ اﷲ تبارک وتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھے کی قربانی قبول فرما کر انسانیت کو زندگی کی عظیم نعمت سےسرفراز فرمایا۔ یوں تو قربانی کے لیے انسانوں کی بجائے جانوروں کی قربانی کو قیامت تک کے لئے ملتِ ابراہیمی کے لیے لازم قرار دے کر بنی نوعِ انسانی پر بے پناہ احسانِ عظیم فرمایا۔

زمانے کااصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی کسی پر احسان کرتا ہے تو اس کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جس سے محسن خوش ہوکر مزید نوازتا ہے۔ اظہارِ تشکر مزید انعام و اکرام کا ذریعہ ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنےبندوں کےلئے بے شمار نعمتوں کا نزول فرمایا۔ لا تعداد نعمتیں اس بات کا متقاضی ہے کہ محسنِ حقیقی کا اس طرح سے شکر ادا کیا جائے کہ زندگی مکمل طور پر سراپا تشکر بن جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ. (البقرة، 2: 152)

’’اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔‘‘

زندگی جیسی عظیم نعمت کا شکر اسی صورت میں کما حقہ ادا ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو اسے رضائے الٰہی کے لئے قربان کر دیا جائے۔

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اس کے علاوہ دس ذوی الحجہ کو ادا کیا جانے والا عملِ قربانی گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یَا فَاطِمَةُ! قُومِي إِلَی أُضْحِیَّتِکِ فَاشْهَدِیهَا، فَإِنَّ لَکِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا یُغْفَرُ لَکِ مَاسَلَفَ مِنْ ذُنُوْبِکِ. (حاکم، المستدرک، کتاب الأضاحی، 4: 247، رقم: 5725)

’’(اے فاطمہ) اٹھو اور اپنی قربانی ادا ہوتے دیکھو۔ بے شک (جانور) کے خون کا پہلا قطرہ بہتے ہی تمہارے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘

معلوم ہوا کہ قربانی سابقہ گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی اور بروز قیامت نجات کا مؤثر ترین وسیلہ ہے۔

3۔ ایثار و قربانی کا جذبہ

ایثار کا معنی ہے کہ انسان کو کسی چیز کی حاجت اور ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود کسی دوسرے ضرورت مند انسان کو وہ چیز دے۔ تاریخِ اسلام ایثار و قربانی کے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مومن کی ان ہی صفات کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ. (الحشر، 59: 9)

"اپنی جانوں پر انہیں ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو۔”

ہماری عبادات بھی ہمیں ایثار و قربانی کا تعلیم دیتا ہے۔ نماز و روزہ خواہشِ نفس کی قربانی، زکوٰۃ مالی ایثار، جہاد جان کی قربانی اور حج و عمرہ ہمیں مالی و جانی دونوں طرح کے ایثار و قربانی کا تعلیم دیتے ہیں لیکن محبت کی اصطلاح میں ان تمام عبادات کا مقصود اپنی محبوب ترین چیز کو رضائے الٰہی کے حصول کے لئے سپرد کر دینا ہے۔

رب ِکائنات کی مرضی و رضا کے خاطر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لاڈلے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔ اپنی محبوب ترین چیز دوسرے کو دینے کا جذبہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس سے بے پناہ محبت والفت نہ ہو جس کے سپرد چیز کی جا رہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے بے پنا ہ عشق تھا اس لئے مشکل امتحان سے آسانی سے گزر گئے۔

عید کے دن مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں جانور قربان کر کے وہ جذبہ ایمانی اپنے دلوں میں تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اللہ کی رضا کے لئے ہمیں جانور تو کیا جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

گویا قربانی کا اصل منشا مسلمان کے اندر جذبۂ ایثار اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر شئےقربان کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں اور بڑی سے بڑی قربانی دینے میں تساہل اور تردّد نہ کریں۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں