سحری کی فضیلت و اہمیت

Sahur, Sehri

سحری سے مراد وہ کھانا ہوتا ہے جو انسان رات کے آخری حصے میں تناول کرتا ہے، اور اسے سحری اس لیے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصے کو سحر کہتے ہیں اور یہ کھانا اسی وقت میں کھایا جاتا ہے۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ رمضان المبا رک میں سحری کے وقت اٹھیں اور حسب ضرورت کھانا تیار کر کے کھائیں ۔ اگرچہ ایک یا دو لقمے ہی ہوں یا کھجور کے چند دانےکھالے۔ کیونکہ یہ کھانا باعث برکت ہے اور نیز سحری کے وقت اٹھنا اور کھانا اسلام کا شعار ہے۔

سحری کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں:

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

"سحری کیا کروکیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہے” [بخاری: (1923) مسلم(1095)]

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے ک درمیان فرق ہے”. [مسلم(1095)]

اور ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں”.[احمد]

ان احادیث میں سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو روزے دار اس وقت میں کھاتا ہے؛ کیونکہ سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن آسانی سے گزر جاتا ہے؛ نیز سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہے، اہل علم کی سحری کو بابرکت بنائے جانے سے متعلق گفتگو سے یہی معلوم ہوتا ہے۔

بہت سارے علمائے کرام نے بھی سحری کی اہمیت اور برکتوں کی نشاندہی کی. نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

علمائے کرام کا سحری کے مستحب ہونے پر اجماع ہے اور یہ کہ سحری کرنا واجب نہیں، سحری میں برکت کا معاملہ بھی واضح ہے۔ کیونکہ سحری کرنے سے روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن جسم توانا رہتا ہے، اور چونکہ سحری کھانے کی وجہ سے روزہ میں مشقت کا احساس کم ہو جاتا ہے ، اس کی بنا پر مزید روزے رکھنے کو بھی دل کرتا ہے، لہذا سحری کے بابرکت ہونے کے متعلق یہی معنی اور مفہوم صحیح ہے۔” انتہی ” شرح مسلم ” از نووی":(206/7)

ماہرین غذائیات کی نظر میں سحری کے فائدے:

اہرین غذائیات کی نظر میں سحری کے فائدے ماہرین غذائیات کے مطابق سحری حیرت انگیز طور پر غذا کےاستحالہ میں مدد کرتا ہے، بھوک کے احساس کو کم کرتا ہے، ذہنی چوکسی اور چستی کو بڑھاتا ہے، دماغ کو تندرست رکھتا ہے، طاقت فراہم کرتا ہے، جسم کو باز آبیدہ کرتاہے، ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، دبلے پتلے عضلات کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے اور تھکاوٹ کو کم کرتا ہے۔

طبی ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ سحری میں جہاں تک ہو سکے ایسی غذاؤں کے استعمال سے اجتناب کیا جائے جن میں گلوکوز کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں جیسے چاول وغیرہ اور ایسی غذاؤں کا استعمال کریں جو بہت زیادہ ریشہ دار اور کم سے کم نشاستہ دار ہوں، تاکہ دن کے اوقات میں روزہ دار کو کم سے کم بھوک کا احساس ہو سکے۔

جو لوگ بہت زیادہ میٹھی غذا استعمال کرتے ہیں ان کا پیٹ جلدی بھر جاتا ہے لیکن انہیں پورے دن بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے۔

رمضان المبارک کے دنوں میں دو قسم کی پریشانیاں اکثر روزہ دار کو پیش آتی ہیں، ایک تو بہت تیزی سے ان کے شوگر میں اضافہ ہوتا ہے اور اکثر لوگ قبض کے شکار ہو جاتے ہیں، ایسے میں طبی ماہرین کا کہناہے کہ ریشہ سے بھرپور غذاؤں کا استعمال نقصان دہ حد تک شوگر کو بڑھنے سے روکتا ہے اور قبض کو بھی دور کرتا ہے

اہم مسئلہ:

سحری کا وقت صبح صادق سے پہلے ہے اگر صبح صادق ہو جائے تو پھر سحری سے فورا ًالگ ہو جائیں۔ کھانا پینا بند کر دیں.

بعض لوگ اذان فجر یا سائرن کی آواز سن کر بھی پانی وغیرہ پیتے ہیں یہ درست نہیں ۔فرض کریں کہ وسحری کا آخری وقت ٥ بج کر ١١ منٹ ہے تو فجر کی اذان ٥ بج کر ١١ منٹ کے بعد ہوگی لہذااس سےپہلے ہر حال میں کھانے پینے سے فراغت حاصل کرلینی چاہیے۔اگر آذان یا سائرن کی آوازسنتے وقت پانی بھی پیا تو روزہ نہیں ہوگا۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں