تراویح دور حاضر کے تناظر میں

Ramadan-Taraweeh

یوں تو شریعت اسلام میں ہر مہینہ اور ہر سال اور ہر دن رحمتوں  اوربرکتوں والا ہے مگر کچھ ماہ اور چند ایام کو دوسرے ایام و ماہ پر اہمیت اور فوقیت حاصل ہے مثلاً   جمعہ کو دیگر ایام سے زیادہ اہمیت حاصل ہےاسی طرح ماہ رمضان المبارک  کودیگر تمام ماہ پرفضیلت ہے اس ماہ میں اللہ تبارک و تعالی کا بندوں پر خاص فضل وکرم ہوتا ہے اس ماہ میں ہر کار خیر کا ثواب ستر گنازیادہ عطا کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک گنہگار بندہ بھی اس ماہ مبارک میں روزہ ،نمازاور دیگر عبادتوں کے ساتھ خصوصا تراویح کا اہتمام کرتا ہے۔

تراویح کا لغوی معنیٰ:

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وَالتَّرَاوِيحُ جَمْعُ تَرْوِيحَةٍ وَهِيَ الْمَرَّۃُ الْوَاحِدَ ۃُ  مِنَ الرَّاحَۃِ کَتَسْلِیْمَۃِ مِنَ السَّلَامِ )فتح الباری شرح صحیح البخاری ج4ص317(

ترجمہ: تراویح”ترویحہ‘‘کی جمع ہے اور ترویحہ ایک دفعہ آرام کرنے کوکہتے ہیں، جیسے ”تسلیمہ‘‘ ایک دفعہ سلام کرنے کو کہتے ہیں۔

*تراویح کا اصطلاحی معنی*

شریعت کی اصطلاح میں  تراویح وہ نماز ہے جو سنت مؤکدہ ہے اور رمضان المبارک کی راتوں میں عشاء کی نماز کے بعد سے صبح صادق کے درمیان جماعت کے ساتھ یا اکیلے پڑھی جاتی ہے۔

*تنبیہ:۔ عام رواج اور معمول کے مطابق نماز تراویح عشاء کے بعد متصل پڑھی جاتی ہے۔

 

تراویح کسے کہتے ہیں؟

”ترویحہ‘‘ وہ نشست ہے جس میں کچھ راحت لی جائے۔ چونکہ تراویح کی چاررکعتوں پر سلام پھیرنے کے بعد کچھ دیر راحت لی جاتی ہے،اس لیے تراویح کی چار رکعت  کو ایک ”ترویحہ‘‘ کہاجانے لگا اورچونکہ پوری تراویح میں پانچ ترویحے ہیں، اس لیے پانچوں کامجموعہ ”تراویح‘‘کہلاتاہے ۔

علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سُمِّیَتِ الصَّلٰوۃُ فِی الْجَمَاعَۃِ فِی لَیَالِی رَمَضَانَ التَّرَاوِیْحَ ؛ لِاَنَّھُمْ اَول مااجتمعواعلیھا کانوایستریھون بین کل تسلیمتین۔ )فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج4، ص317(

ترجمہ: جونماز رمضان کی راتوں میں  باجماعت اداکی جاتی ہے اس کانام ”تروایح“ رکھاگیاہے، اس لیے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پہلی بار اس نماز پرمجتمع ہوئے تووہ  ہر دوسلام (چاررکعتوں)کے بعدآرام کیاکرتے تھے۔

تروایح سنت مؤکدہ ہے :

حضورعلیہ السلام نے قیام رمضان کوسنت قرار دیا ہے جیساکہ ابھی باحوالہ گزرا ہے۔آپ علیہ السلام کے بعدحضرات خلفاء راشدین اوردیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اس پر مواظبت فرمائی جیسا کہ ہم اس کابیان کریں گے، اور یہی مواظبت دلیل ہے کہ تراویح سنت مؤکدہ ہے۔حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ حضورعلیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ۔ )سنن ابی داؤد: ج2،ص290، باب فی لزوم السنۃ(

ترجمہ: تم میری سنت کواورہدایت یافتہ خلفاء راشدین (رضی اللہ عنہم) کی سنت کو اپنے اوپرلازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔

اس حدیث مبارک  میں جہاں آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے اپنی سنت پر لفظ ’’علیکم‘‘(تم پر لازم ہے) اور عضواعلیھابالنواجذ (مضبوطی سےتھام لو) سے عمل کرنے کی تاکید فرمائی اسی طرح حضرات خلفاء راشدین  رضی اللہ عنہم کی سنت پر بھی عمل کرنے کی تاکید فرمائی جوکہ تراویح کے سنت موکدہ ہونے کی دلیل ہے۔

 

ابتدائے تراویح کب اور کیسے؟

ابتدامیں خود حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بھی تراویح ادا فرمائی اور اسے پسند فرمایا. پھر اس اندیشہ سے کہ امت پر فرض نہ ہو جائے آپ ﷺ نے ترک فرما دیں بعد میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو متفرق طور پر نماز پڑھتے پایا کوئی تنہا پڑھ رہاہے،کسی کے ساتھ کچھ لوگ پڑھ رہے ہیں ، فرمایا :کہ میں مناسب جانتا ہوں کہ ان سب کو ایک امام کے ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہو،سب کو ایک امام حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ لوگوں کو اکھٹا کر دیا پھر دوسرے دن  تشریف لےگئےآپ نے ملاحظہ فرمایا کہ لوگ امام حضرت ابی ابن کعب کے پیچھے نماز پڑھتےہیں  اس وقت آپ نے فرمایا "نعمت البدعۃ وهذه” یعنی یہ بہت اچھی بدعت ہے۔(بہار شریعت)

موجودہ حالات میں تراویح۔

کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کی وجہ سے انسانی زندگی بکھری پڑی ہے۔دیگر ممالک کی طرح ہندوستان کی حکومت نے مسجدوں کو بھی جانے سے منع کر دیا ہے اور لوگ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں بھی اپنی عبادت گاہوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں ایسے حالات میں علمائے کرام نے عوام کے لئے یہ رہنمائی فرمائیں کہ وہ اپنے گھروں میں جس قدر ممکن ہوعبادت کا اہتمام کریں اور دیگر نمازوں کی طرح تراویح کے متعلق بھی احکام شریعت بتاتے ہوئے فرمایا کہ تراویح مرد و عورت دونوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے البتہ عورتیں نماز تراویح گھروں میں تنہا تنہا پڑھتی ہیں  اور مرد عام حالات میں مسجد میں با جماعت ادا کرتے ہیں  ۔لہذا! ایسے پرفتن دور میں مرد حضرات بھی نماز  تراویح گھر پہ ہی اداکریں۔

تراویح کی جماعت سنت کفایہ ہے کہ محلہ کے سب لوگوں نے چھوڑ دی تو سب نے برا کیا اور کچھ لوگوں نے جماعت سے پڑھ لیں تو باقی لوگ تنہاتنہاپڑھ سکتے ہیں۔ .

تراویح مسجد میں جماعت سے پڑھنا افضل ہے جماعت سے پڑھیں تو جماعت کے ترک کا گناہ نہ ہوگا۔.

شریعت کے اس آسانی کے پیش نظر علما نے فرمایا کہ کرونا کرفیو رہنے تک پانچ آدمی مسجد میں  باجماعت پنجگانہ اور تراویح کا اہتمام کریں اور باقی افراد اپنے اپنے گھر میں ہی حتی الامکان نماز ،روزہ ،  دیگر عبادتوں اور تراویح کا اہتمام کریں۔

Quran

ایک غلط فہمی:

کووڈ 19کی وجہ سے لوگ مسجد جانے سے معذور ہیں جس کی وجہ سے نماز جمعہ اور تراویح کی جماعت سے لوگ محروم ہیں اور لوگ اپنے رب سے لو لگانے کے لئے نئے نئے اور انوکھے طریقے تلاش کر رہے ہیں ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ ” امام مسجد میں چند لوگوں  کےساتھ نماز اداکریں اور انٹرنیٹ کے مدد سے شہر کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر اس امام کی اقتدا کریں “اس تعلق سے حکم شریعت یہ ہے کہ اس طرح کی اقتدا  ہرگز درست نہیں اس طرح کی اقتداکسی بھی نماز کیلئے  خواہ نماز تراویح ،نماز جمعہ یا نماز پنجگانہ ہو ہرگز درست نہیں کیوں کہ اقتدا کے لئے امام اور مقتدی کا ایک جگہ ہونا لازم وضروری ہے۔” اتحاد مكان الامام والمامون” لہذا! اس طرح کے اقتدار سے پرہیز لازمی ہے ورنہ محنت  ومشقت  کے باوجودآپ کاشمار  نماز  نہ ادا کرنے والوں میں ہی ہوگا ۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں