ماہِ شوّال کے 6 روزے

Six Days of Shawwal

رمضان المبارک کے بے پناہ برکتوں اور فضیلتوں کے بعد ماہِ شوال عیدالفطر کی خوشیاں لیکر آتا ہے۔ جو  اسلام کے دو شرعی عیدوں میں سے ایک  ہے  اور شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے۔عید  در حقیقت رمضان میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر رکھے گئے روزوں کا جشن ہے۔اللہ نے اس دن روزہ رکھنا حرام قرار دیا کیونکہ بھوک و پیاس کی شدت جو انہوں نے   پورے مہینے برداشت کیا ہیں اسے بالائے  طاق رکھ کر بہت ہی جوش وخروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ اپنی خوشی کا اظہار کر سکیں۔اور دو رکعت نماز عید ادا کرکے اپنا انعام و اکرام حاصل کر سکیں ۔

شوال المکرم کا مہینہ جو اپنے اندر چھ روزوں کی فضیلت و برکت سمیٹے ہوئے ہیں۔  حدیث میں ہے کہ شوال المکرم کے چھ روزے رمضان کے ساتھ ملا دینے سے پورے سال کے روزے رکھنے کے برابر ہے۔

متقی و پرہیزگار انسان  ماہِ شوال کے چھ روزے رکھتے ہے اور  اپنی نیکیوں میں اضافہ کر مالک حقیقی کو ہر صورت میں خوش کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنا چاہتےہیں۔ رمضان میں لی گئی  ٹریننگ (   روزہ، نماز، تراویح، اعتکاف، صدقات، زکوٰۃ وخیرات کے ذریعے) کو  اپنی زندگی میں قائم رکھتے ہے  ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کے بتائے احکاموں پر اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے عملی اقدام بھی کرتے ہیں۔

شوال کے روزوں کی فضیلت :

رمضان الکریم کے روزوں کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ روزہ رکھنا مستحب ہے۔اور ہر کسی کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص بھی شوال میں چھ روزے رکھ لیتا ہے تو اس کو پورے سال کے روزے رکھنے کا اجر وثواب ملتا ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے اسے سال بھر روزے رکھنے کا اجر ملتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو دس گنا کرتا ہے اسطرح سے رمضان کا مہینہ دس مہینہ کے برابر اور چھ روزے دو مہینے کے برابر اس طرح دونوں مل کر سال کو پورا کرتے ہیں۔

ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے کہ رمضان کے روزے دس ماہ  اور شوال کے روزے دو ماہ کے برابر ہیں تو اس طرح سے پورے سال کے روزے ہوئے۔(صحیح ابن خزیمہ)

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے بعد شوال المکرم کے بھی چھ روزے رکھے،اس نے گویا پورے زندگی روزے رکھے۔(سند البزار)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے مہینے اور شوال کے چھ روزے رکھے گویا پورے سال کے روزے رکھے۔(سند احمد)

علماء کرام نے ان فضیلتوں کے علاوہ لکھا ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں میں جو کمیاں، کوتاہیاں سرزد ہو جاتی ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ان کمیوں اور کوتاہیوں کو شوال کے روزوں سے دور کر دیتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرض نمازوں کی کوتاہیوں کو سنن و نوافل سے پورا کر دیتے ہیں۔

ماہِ شوال کی خصوصیات  :

 عید الفطر : شوال کی پہلی تاریخ کو عید الفطر منائی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے انعام و اکرام پانے کا دن ہے رمضان کے روزوں کے بدلے۔

چھ روزے: چھ روزے رکھ کر پورے سال روزے رکھنے کے برابر۔

اشھر حج: حج جیسی مقدّس عبادت کے مہینوں کی ابتداء شوال المکرم سے ہوتی ہے۔

قضاء اعتکاف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال رمضان میں اعتکاف نہیں کیا تو اسکی قضاء شوال میں کی۔

مستحب شادی: اس ماہ میں شادی بیاہ کرنا بہت سے علماء کے نزدیک مستحب ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اسی ماہ میں نکاح کیا اور اسی ماہ میں رخصتی بھی کی۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہ صرف منحوس والے عقیدہ کی تردید کرتی تھیں بلکہ اس ماہ کی شادی اور رخصتی کو مستحب قرار دیتی تھیں۔

اہم  نقطہ:

  • شوال کے چھ روزے مسلسل رکھنا ضروری نہیں۔
  • چھ روزے ماہِ شوال میں عید الفطر کے دن کو چھوڑ کر لگاتار یا ناغہ سے یا پورے مہینہ میں اپنی سہولت سے کبھی بھی رکھ سکتے ہیں۔
  • شوال کے چھ روزوں کا رکھنا رمضان کے چھوٹے ہوۓ روزوں کی قضا سے پہلے جائز ہے۔

 

وقفہ با وقفہ  روزہ رکھنے سے صحت کے فوائد:

یہ بات بہت زیادہ واضح ہو چکا ہے اور سائنس بھی اس کی تائید میں ہے کہ روزہ  میں صحت سے متعلق بہت سے فوائد موجود ہے۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

  • وزن کم کرنا
  • بلڈ پریشر کو کم رکھنا
  • کولیسٹرول کو کم رکھنا
  • سوزش کو کم کرنا
  • دماغ کو فروغ دینا
  • کینسر سے بچاؤ
  • عمر میں اضافہ
  • راتوں میں بہتر نیند

روزے  کے فوائد کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں حالیہ دنوں میں کافی اضافہ ہوا  ہے۔ غذائیت پسند اور غذائی ماہرین وقفے وقفے سے روزہ رکھنے کی تائید کرتے ہیں۔  یہ کھانے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کھانے اور روزہ رکھنے کے لئے وقت یا  دنوں کو الگ الگ نامزد کیا  جاتا ہے۔

ماہِ شوال کے چھ  روزے  اس قواعد میں بالکل فٹ آتےہے۔ اس طرح   مزید فوائد حاصل کیئے  جاسکتے ہیں ۔ روزے کے دنوں کا تعین یوں کرسکتے ہیں ، شوال کا پہلا ہفتہ عید منانے کے لئے مخصوص کیا جاسکتا ہے اور باقی تین ہفتوں کو روزہ رکھنے کے لئے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ سہولت کے مطابق روزہ  کے لئے 3ہفتوں کے کسی بھی 2 دنوں کو منتخب کرلیں ۔ علمائے کرام نے ایک ہفتے میں پیر اور جمعرات کے دنوں میں روزے رکھنے کی تجویز پیش کی ہے اور روحانیت کے لحاظ سے بھی اس کے زیادہ فوائد ہیں۔


اپنا تبصرہ ‎شامل کریں