ذی الحجہ کے پہلے 10 دن کی اہمیت

Hajj

ہم میں سے بہت سارے لوگ کرونا کی وبائی بیماری کی وجہ سے اس سال حج کرنے میں ناکام ہیں۔ تاہم، ہمارے پاس اس مہینے کی برکتوں کو حاصل کرنے کے بہت سارے راستے ابھی باقی ہیں۔ ذی الحجہ کے پہلے دس دن کو نیک اعمال اور عبادات کی دیگر اقسام کے لئے، سال کے بہترین دس دن کہا جاتا ہے۔

ذی الحجہ اسلامی اور قمری سال کا آخری مہینہ ہے۔ اس کی حرمت روز اوّل سے ثابت ہے۔ حرمت کے چار مہینوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بابرکت، مبارک اور اس کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس مہینے کی کچھ عبادات ایسی ہیں جو سال کے کسی مہینے اور دن میں نہیں کی جاسکتیں، جیسے حج اور قربانی۔

قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے "قسم ہے فجر کی،اور دس راتوں کی”۔ مفسرین کی اکثریت کے مطابق ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں، بلاشبہ جو ذات خود عظیم ہو وہ صاحب عظمت شے ہی کی قسم کھاتا ہے۔ اللہ عزوجل کا کسی شے کی قسم کھانا اس کی عظمت و فضیلت کی واضح دلیل ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے بارے میں کہا ہے کہ: "ذی الحجہ کے دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک عمل جتنا محبوب ہے اس کے علاوہ دیگر دنوں میں نہیں۔”   ۔۔۔[بخاری]

وہ اعمال جو ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں ضرب المثل ہیں:۔

ذکر:

اللہ کی حمد و ثنا اور ذکر و اذکار نیک اعمال میں سے ایک ہے۔ جس میں ہمیں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں مشغول ہونا چاہئے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ” کوئی دن نہیں ہیں جو اللہ کے حضور اس سے بڑھ کر ہوں یا نیک اعمال اس سے زیادہ محبوب ہوں، ان دس دنوں سے زیادہ، لہذا ان دنوں کے دوران تہلیل (لا الہ الا اللہ) ، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) کا ذکر زیادہ کیا کرو۔”  ۔۔۔[احمد]

نماز اور دعا:

ذوالحجہ کے پہلے دس دن کے دوران ، ہمیں سنت نماز اور دعاؤں میں بہت زیادہ اضافہ کرنے کا ارادہ کرنا چاہئے۔ دعائیں روزے کے دوران آسانی سے قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے ، خاص کر سحور کے ختم ہونے سے پہلے اور روزہ افطار کرنے سے قبل۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بہترین دعاء وہ ہے جو یوم عرفہ میں مانگی جائے،” ۔۔۔[ترمذی اور مالک]

تلاوت:

قرآن مجید پڑھیں یہ ذکر کی بہترین صورت ہے۔ ان دس دنوں اور راتوں کے دوران قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں ، خواہ ہر دن ایک آیت ہی ہو۔ تلاوت کے معمول میں کچھ منٹ یا صفحات کو شامل کرکے اپنی تلاوت میں اضافہ کرتے رہا کریں۔

مخلص توبہ:

ان بابرکت ایام کو اپنی تمام غلطیوں کے لئے، اللہ سے مغفرت کے لیئے استعمال کریں۔

"لیکن جس نے توبہ کی ، ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو وہ کامیاب لوگوں میں ہوگا۔” ۔۔۔[القصص 28:67]

صدقہ:

اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر بندہ صدقہ کرتا ہے اور غریبوں و مسکینوں کو دیتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ آپ یا تو عوام میں مستحق کو رقم دے سکتے ہیں یا آن لائن بھی عطیہ کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ، ایک مسکراہٹ بھی صدقہ مانا گیا ہے۔

تکبیر:

ابن عمر نے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی دن ایسا نہیں ہیں جو اللہ کے حضور زیادہ بہتر ہوں یا نیک اعمال اس سے زیادہ محبوب ہوں۔ لہذا ان دس دنوں کے دوران تہلیل (لا الہ الا اللہ) ، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) کا ذکر زیادہ کیا کرو،” ۔۔۔[احمد]

روزہ رکھنا:

ذوالحجہ کے نویں دن عربی زبان میں یوم عرفہ کے نام سے مشہور ہے۔ جو عرفہ کا بابرکت دن ہے۔ اس روز حجاج کرام حج کا عظیم الشان رکن وقوف عرفہ ادا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ نبی ﷺ ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن کے روزے رکھتے تھے۔ ۔۔۔[النساء اور ابوداؤد]

ابو قتادہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ نے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں فرمایا ، "یہ پچھلے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کو معاف کرتا ہے،” ۔۔۔[مسلم]

قربانی (ذبیحہ):

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ عید الاضحی یا ذبیحہ کرنے کا دن ہے۔ قربانی، حج کی مقدس سعادت کے اختتام کی علامت ہے۔ یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اللہ کے فضل کی یاد دلاتی ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی رضا کے لئے قربان کرنے لگیں تو اللہ نے حضرت اسماعیل کے بدلے دنبہ کو قربانی کے لئے بھیج دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے امتحان میں کامیاب رہے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "ابن آدم کا کوئی عمل اﷲ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پیارا نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبولیت کو پہنچ جاتا ہے۔ لہذا اسے خوش دلی سے کرو،” ۔۔۔[ترمذی ، ابن ماجہ]


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں