قربانی ایک واجب عمل

Eid-ul-Adha

قربانی کےدنوں میں قربانی کرنا ہی واجب ہے۔ قربانی کی جگہ صدقہ کرنے یا غریبوں کی مدد کرنے سے قربانی کا وجوب ساقط نہیں ہوگا۔ اقسام عبادت میں سے قربانی بھی ایک مالی عبادت ہے جس کا وجوب نص قطعی سےثابت ہے۔

"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ”  (الكوثر٢)

اور اسے شعار اسلام میں شمار کیا گیا ہے،جو اس کے وجوب کا انکار کرے وہ بے دین اور خارج از اسلام ہے۔ (کتب فقہیہ)

نماز، روزہ کی طرح قربانی کا عمل بھی عبادت کے طور پر سابقہ امتوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ جس کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور یہ تسلسل حضرت عیسی علیہ السلام تک پہونچتا ہے، جس کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی کا جانور ذبح کیا جاتا اور اس وقت کے نبی علیہ السلام دُعا مانگتے ان کی دعاسےآسمان سے خاص کیفیت کی آگ اُترتی اور اُسےکھا جاتی جسے قبولیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ البتہ خاص عیدالاضحی کے دن امت محمدیہ کاحسب حیثیت جانوروں کی قربانی کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کرنا اس جذبۂ محبت وفدائیت کا اظہار ہے جس کے پس منظر میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام کی ایک حیرت انگیز تاریخ موجود ہے۔ رضائے الٰہی اور حکم خداوندی کی پاسداری کے لیے باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلانا اور بیٹا کا صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر اطاعت خم کر دینا، یہ ایمان ویقین کا وہ عظیم مظاہرہ تھا جس نےایک لمحہ کیلئے کائنات کے ذرہ ذرہ کو سکتےمیں ڈال دیاتھا۔ آپ کے اس قابل رشک اور بے مثال محبت کو اللہ رب العزت نے ” وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ” سے یاد فرمایا ہے-(سورہ الصٰفّٰت)

قربانی ایک واجب عمل

ایام قربانی میں قربانی کیاجانا اسی جذبۂ ایمانی کو پیدا کرنے کیلئے ہےاور اس کا وجوب نص قطعی سے ثابت ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ لہذا قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا ہی واجب ہے کوئ دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔

مثلاً بجائے قربانی کے اگر کسی نے بعینہ قربانی کا جانور یا اس کی قیمت صدقہ کردی تو واجب ساقط نہیں ہوگا۔ وقت رہتے ہوئے اگرقربانی نہیں کیا توگنہ گار بھی ہوگا۔

فتاوی عالم گیری میں ہے”لايقوم غيرهامقامهافي الوقت حتي لوتصدق بعين الشاة اوقيمتهافي الوقت لايجزئه عن الاضحية (جلد۵ ص۲۹۳)

فتاوی افریقہ صفحہ ۲۰۱ پرامام اہل سنت سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"جس پرقربانی واجب ہے وہ اگر ایام قربانی میں دس لاکھ اشرفیاں تصدق کرے (پھر بھی) قربانی ادا نہ ہوگی، واجب نہ اترے گا اور گنہ گار و مستحق عذاب رہے گا۔

مزید یہ کہ ایام قربانی میں قربانی ایک ایسی نیکی ہے جس کا کوئی بدل نہیں اور اس دن اس سے بہتر کوئی عمل نہیں چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:

’’ایام قربانی ۱۰ ویں ذی الحجہ کی طلوع فجر سے ۱۲ویں کے غروب آفتاب تک؛ انسان کا کوئی بھی عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا اور بلا شیہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مرتبہ قبولیت پالیتا ہے۔ تو (اے مومنو) خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘ (ترمذی شریف)

خود رسول اکرمﷺ کا قربانی کے تعلق سےجو معمول تھا اس کی وضاحت حدیث کی مختلف روایتوں میں یوں آتی ہے کہ آپ ﷺنماز عید الاضحٰی سے فارغ ہو کر اولیں فرصت میں قربانی کا اہتمام فرماتے اور نہ صرف اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے بلکہ کبھی کبھی اپنی امت کےغیر مستطیع لوگوں کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف)
مدینہ منورہ کے دس سال قیام کے دوران تسلسل کے ساتھ آپ قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی شریف)

انہیں قربانی کے ایام میں حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ۱۰۰ اونٹ کی قربانی پیش کی اور اس میں سے اکثر اونٹوں کو اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا اور چند اونٹوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کوذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ ان روایتوں سے قربانی کی اہمیت و فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔

افواہ اور پروپیگنڈہ

آج کل ایک افواہ اور غیروں کی سازش بہت تیزی سے پھیل رہی ہے کہ قربانی کے بجائے صدقہ کریں اورغریبوں کی مدد کریں لہذا میں اس بات کو بھی ذکر کر دوں کہ قربانی کے دوپہلو ہیں ایک صورَت ہے اور دوسری حقیقت ہے، صورَت تو جانور کا ذبح کرنا ہے، اور اس کی حقیقت اِیثارِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا اور تقرب اِلی اللہ ہے۔ پس اگر ہم ذبح اِسماعیل علیہ السلام کا واقعہ بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ذبح کا اصل مقصد جان کو پیش کرنا ہے تاکہ اس سے اِنسان میں جاں سپارِی اور جاں نثارِی کا جذبہ پیدا ہو اور یہی اس کی حقیقت ہے تو کیا یہ چیز صدقہ سے حاصل ہوسکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں پس جب ثابت ہوگیا کہ صدقہ و امداد غرباء سے قربانی کی حقیقت حاصل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کا وجوب ہمارے ذمہ سےساقط ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ جدت پسند حضرات یہ مہم چلا رہے ہیں کہ جو پیسے قربانی پر خرچ کیے جا رہے ہیں ان سے غریب، حاجت مند، نادار لوگوں کی مدد کرنا چاہیے، گوشت تو انسان کھا ہی لیتا ہے۔ بظاھر یہ ایک معقول بات نظر آتی ہے مگر یہ بہت نا معقول خیال ہے جو دین اور قربانی کی حقیقت سے لا علمی کا مظہر ہے- ہم لوگ بہت جگہ فضول خرچی کرتے ہیں، انٹرٹینمنٹ، شاپنگ برانڈز، فضول رسمیں، ڈریس، کنوینس وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس وقت ہمیں بچت کر کہ صدقه خیرات کا خیال نہیں آتا، اگر آتا ہے تو صرف اسلامی احکامات، عبادات میں کنجوسی یا کمی کرنے کا- حج، عمرہ، قربانی کے اخراجات بھاری معلوم ہوتے ہیں۔ یہ لا علمی اور ایمان کی کمزوری ہے- اسلام فضول خرچی کو ناپسند کرتا ہے، عبادات اور تمام معاملات میں سادگی اختیار کرنے سے انسانیت کی خدمت بھی ہو سکتی ہے اور اللہ کی رضا کا حصول بھی۔

کچھ مسلمانوں نے قربانی کو فیشن اور دکھاوا، اسٹیٹس سمبل بنا دیا ہے- یہ قربانی جو کے ایک عبادت کا عمل ہے اس کی نفی ہے۔ بہت مہنگے جانور خریدنا اور اس کی میڈیا پر تشہیر کرنا مناسب اقدام نہیں۔

صدقه، خیرات ایک مستحب عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ قربانی مخصوص دنوں میں ایک خاص عمل ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی اس کا کوئی اور متبادل ہوسکتا ہے۔ ہاں اگر کسی کے پاس سادگی سے قربانی پر خرچ کرنے کے بعد رقم کی فراہمی ہے تو مستحق کی مدد واجب ہے۔

جملہ امت محمدیہ سے گذارش ہے کہ اس کےمتعلق کسی بھی افواہ کا شکار نہ ہوں اور اپنے دینی و ملی فریضہ کو انجام دینے میں ہر گز کوتاہی نہ کریں کہ جس سے سنت ابراہمی کی پامالی ہو، اپنے آپ کو اور اسلامی شعارکو بچانے کیلئے قربانی ضرور بالضرور کریں۔ مگر سادگی اور صفا‏ئی کا خیال ضرور رکھیں اور دکھاوا سے بچیں۔

اللہ تعالی ہمیں ایمانی جذبے کیساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس راستے میں آنے والی تمام پریشانیوں کا خاتمہ فرما دے۔آمین بجاہ سیدالمرسلینﷺ


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں