بعد از رمضان المبارک: اپنی عبادات کو برقرار رکھنا

Post Ramadan

ماہِ رمضان کے بعد مزید ہفتےگزر چکے ہیں۔ ہم اپنی  زندگی کےمعمول کی طرف واپس آگئے ہیں۔ لیکن کیا واقعی میں رمضان کے مقدس مہینے میں ہم نے جو ایک مہینے کاورکشاپ کیا اس کاحاصل کیارہا؟ خود کا اندازہ کیا؟ ہم اس ورکشاپ سے کتنا فائدہ حاصل کرپائے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں عبادات کا کتنا تسلسل ہے؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے محبوب عمل کون سا ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا    "ہمیشہ کیا جانے والا اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو”۔(الحدیث)

 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہےکہ اے ایمان والو !تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں تقویٰ (پرہیزگاری) ملے۔(سورۂ بقرہ آیۃ183)                  

اب سوال اٹھتا ہے کہ آخر تقویٰ ہے کیا؟ تقویٰ و ہ پرہیزگاری ہے کہ اللہ جس چیز سے منع کرے اس میں مصروف و مشُغول  نہ ہو،اور جسکا حکم فرمائے وہاں غافل بھی نہ ہو۔روزہ کا مقصد اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ رب کو پہچان سکیں ، پہچان کراسےجان سکیں اور ا سکے بتائے ہوئے راہ پر چل سکیں۔رمضان کے مہینے میں تقویٰ کو اختیار کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ بقیہ زندگی کو صراط مستقیم پر گامزن رکھ سکیں ۔

تبارک و تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہےکہ "ہم نے انسانوں اور جنوں کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا”(  سورۂ الذاریات آیۃ52)   

       تو پھر انسان اس سے روگردانی ، غفلت،سستی و کاہلی برتتا ہی کیوں ہےاور یہ کس حد تک جائز و صحیح  ہے، غوروفکر کرنے کی بات ہے۔

لفظ تقویٰ وسیع المعنٰی ہے،اس میں ہر وہ عمل،فعل، شئے،کام،بات،طور طریقہ،کھان پان،چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا وغیرہ شامل ہیں جس سے قرب الٰہی نصیب ہو۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں تومومن ہر وہ عمل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں جو امام ا لانبیاء کی سنت ہےمگرکیا ماہ ِمقدس کے رخصت ہو نے کے بعد بھی ہمارانیک عمل برقرار رہتا ہے؟ہمیں اپنےعمل و کردار کو سامنے رکھ کر محاسبہ  کر نا، دل سے پوچھنا چاہئے۔جواب مثبت ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں اور اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں، اور اگر جواب منفی ہے تو بہت ہی افسوس کا مقام ہے اور طرز عمل میں خاطر خواہ تبدیلی کی ضرورت ہے۔

اگر ہم قرآن مجید کی قرأت ، صدقات و خیرات ، راتوں کو قیام ، دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ، غریبوں و مسکینوں کی خبر گیری کرنے والے ، غصّہ پر قابو رکھنے والے ، قرضوں کی ادائیگی کرنے والے ، بیماروں کے حق میں دعا کرنے والے ، بے غرض مالی اعانت کرنے والے ، ضعیفوں کا سہارا بننے والے ، پڑوسیوں کا صحیح حق ادا کرنے والے ، قرابت داروں اور یتیموں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے والے ، نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے والے ، راتوں کو بیدار ہو کرذکر واذکاراور  تہجد ادا کرنے والے ، مفلسی میں بھی شکر ادا کرنے والے ، نماز کی پابندی کرنے والے، ایک نماز سے دوسرے نماز کے انتظار میں رہنے والے، روزے دار اپنی بھوک و پیاس کی شدت سے دوسرے کے بھوک و پیاس کی شدت کا احساس کرنے والے ،  حلال کو اپنانے اور حرام کاری سے بچنے  والے ، فسق و فجور سے بچنے والے ، لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور رہنے والے ، گالی گلوج سے زبان کی حفاظت کرنے والے ، والدین کے حکم کو بجا لانے والے ، دوسروں کے عیبوں کی پرده پوشی کرنے والے ، گندی فکر و سوچ سے دماغ کو پاک و صاف رکھنے والے ، قرآن فہمی کی سعی کرنے والے ، زندگی کے ہر شعبہ میں قرآن کو حق جان کر حرف اول و آخر ماننے والے ، حقداروں کا حق ادا کرنے والے ، اخوت و بھائی چارگی کے دامن کو ہاتھ سے نہ جانے دینے والے ، بچوں پر شفقت کرنے والے ، شب گذاری کرنے والے ، نوافل و سنن کا اہتمام کرنے والے کو برقرار رکھے ہوئےہیں رمضان المقدس کے بعد والے اوقات میں بھی تو اللہ تبارک و تعالیٰ ایسے مومنوں کیلئے قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہے”  بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے نہ ان پر خوف نہ ان کو غم "۔( سورۂ احقاف آیۃ 13)   

رمضان المبارک کے بعد بھی رمضان والی حالت پر ثابت قدم، اور اهدنا الصراط المستقیم کو اپنا طرۂ امتیاز بنایا تو ٹھیک ہے اگر نہیں تو پھر خسارہ ہی خسارہ ہے۔

ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان مبارک میں مسجدیں مکمل بھری رہتی ہیں ، اکثروبیشتر ہرمسلمان نماز کی پابندی کیا کرتے ہیں، فرض ہی نہیں بلکہ  سنت و نوافل  اور نماز تراویح کا بھی بڑے ذوق وشوق  سے ادا  کرتے ہیں صدقہ و خیرات کا دور و دورہ  رہتا ہے، قرآن پڑھنے کا بڑے ہی شوق سے اہتمام ہوتا ہے، قرآن فہمی و قرآن خوانی ہوتی ہے، غرض ہر قسم کے عبادات میں مشغول رہتے ہیں، ذکر و اذکار و عبادت وریاضت سےاپنے روٹھے ہوئے مولیٰ کومنانے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں، مگر کیا وہی حالت ہوتی ہے روزہ داروں کی رمضان المبارک کے بعد بھی۔ ایساذاتی مشاہدہ ہے ہرگز نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ پوری طرح سے قدم جمائے رکھیں اپنی رمضان والی حالت پر، صرف رمضانی مسلمان بننے سےدل ودماغ کی کیفیت نہیں بدل سکتی، اور نہیں ہماری زندگی کامیابی کی راہ اختیار کرسکتی  ہے۔ ایسا لگتا ہے اللہ  رب العزت صرف اور صرف ایک مہینہ کے لئے ہی ہمارے لیے عبادات  کو خاص کیا  ۔ اللہ رب العزت نے رمضان المبارک کامہینہ عموماً ساری انسانیت اور خصوصاً مومنوں کیلئے عمل صالح کی مشق کے لیے بنایا تاکہ مومنوں کا دل اچھے کاموں کی طرف مائل، نفس کی پاکیزگی میسر،  اور تا حیات اس پر ثابت قدم رہیں تاکہ  اور تدبر کے ذریعہ  مالک حقیقی کو پہچان سکیں۔کیا مالک ہمیں صرف رمضان میں ہی رزق دیتا ہے؟رمضان کے بعد ہماری ساری چیزیں بند کر دی جاتی ہیں،ایسا ہرگز نہیں  تو پھر ہم رمضان تک ہی اسے اپنا رب کیوں مانتے ہیں، کیا ہمارا حق نہیں کے زندگی کی آخری سانس تک اسی کی منشاء اور مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزار دیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہے کہ ” جسے اللہ عزوجل ذلیل کر دے اسے کوئی  عزت دینےوالا نہیں”۔ (سورۂ  حج آیۃ 18)

 مگر افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگ رمضان المبارک میں روزہ، قیام، صدقات  و خیرات کی پابندی کرنے، والدین کی فرمانبرداری کرنے، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی خاص توجہ دینے کے باوجود عید کی نماز پڑھی اور اپنی پرانی زندگی پر لوٹ آئے، لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جو رمضان میں کچھ اور تھے۔دیکھنے میں تو یہ آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ کے ختم ہونے کا انتظار رہتا ہے تاکہ معاصیات و سیآت کے دلدل میں جا گرے۔مگر دوسری طرف نیک بندوں کو اس مہینہ کے چلے جانے کا ملال بھی ہوتا ہے۔

رمضان کے بعد بھی ہمیں چاہیے کہ صوم وصلوٰت کے پابند رہیں ۔ایک دوسرے کا تعاون کرتےرہیں، پڑوسیوں کا خیال کرتے رہیں جس طرح سے رمضان میں کیا کرتے تھے بلکہ اگر رمضان میں کمی رہ گئی تو اسے دور کریں۔صدقات و خیرات رمضان میں دے کر ہمیں جو خوشی ملتی تھی وہی خوشی رمضان المبارک کے بعد بھی ہو اس کے لیے ہاتھوں کو کھلا رکھیں،ہاتھ کوتنگ نہ کریں، مال اللہ رب العزت کی دی ہوئی امانت ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے راستے میں خرچ کریں۔

اللہ کی برکت و عنایات صرف رمضان تک کیلئے نہیں ہوتی ہیں بلکہ ہمہ وقت جاری و ساری رہتی ہیں ۔اس لیے فرض و نوافل عبادات  میں مشغول رہیں تاکہ اللہ عزوجل کی خوشنودی حاصل ہوتی رہے اور اس کے غضب سے محفوظ رہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہے کہ ”  اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ” ۔( سورۂ ابراھیم آیۃ 27) "

آخر یہ کون ہیں جنکی کامیابی و کامرانی کا اعلان کیا جا رہا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو وقتی طور پر نہیں بلکہ مرتے دم تک ایمان کی حالت میں ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں وہ صرف رمضانی مومن نہیں ہوتے۔

رمضان بعد بھی ہمیں چاہیے کہ غریبوں کی مدد کریں، بیماروں کی تیمارداری کریں، انکا خیال رکھیں، فحش باتوں سے دور رہیں، کسی کی حق تلفی نہ کریں ، نہی و عن المنکر پر عمل پیرا ہوں، بڑوں کا احترام کریں، مسجدوں کا حق ادا کریں، سودی کاروبار سے دور رہیں،مشرکانہ عمل کو انجام نہ دیں، تجارت اسلام کے بتائے ہوئے اصول پر کریں، خرافات و بدعات سے بچیں، رسم ورواج کو ترجیح نہ دیں اسلامی شریعت  اور دینی تعلیمات کو فروغ دیں، رزق  حلال پر اکتفا کرتے ہوئے قائم و دائم رہیں ۔جس طرح رمضان المبارک میں اسے اپناکرمالک کے قریب ہونے کی کوشش کی ۔حرام رزق سے خود کو بچیں اور اپنے خاندان والوں کوبھی بچائیں ۔صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں،تھوڑا ہی ہو کوئی بات نہیں اس پر قناعت کریں۔

جس طرح رمضان میں وقت کی قدر کرتے رہے ٹھیک اسی طرح بقیہ زندگی میں بھی وقت کا احترام کریں۔  رمضان کے بعد بھی خود کو فلموں، موسیقیوں، وقت  ضائع کرنے، کھیل تماشوں سے دور رہ کر، اچھی کتابوں کا مطالعہ ، علم نافع حاصل کرتے رہیں ۔ جھوٹ، غیبت، چغل خوری سے بچ کر، اپنے جائز مقاصد کو پانے کی غرض سے سعی کریں ، استاذ کا احترام کریں تو  صحیح معنوں میں دونوں جہاں کی سربلندی و سرفرازی  سے مزین ہو سکتے  ہیں۔اگر ہم صحیح معنوں میں مذکورہ باتوں پر عمل آوری  اور ثابت قدم رہے تو چلتا پھرتا قرآن و حدیث، دوسرے اقوام پر غالب، ایمانی کیفیت سے شرابور ہونگے ۔ جتنی ایمانی لومضبوط اورمستحکم  ہوگی اللہ کی قربت اتنی ہی زیادہ نصیب ہوگی۔

اللہ تعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتا ہے کہ "بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا” ۔( سورۂ حم السجدہ آیۃ 30)

ہمیں جنت کی خوشخبری دی گئی اور دنیا و آخرت میں خوف و ڈر سے محفوظ کا پروانہ عطا کیا گیا ۔کیا ہم نہیں دیکھتے کہ واقعی جو اللہ سے خوف کھاتے ہیں اُن لوگوں کی زندگی کامیاب و کامران ہیں ۔کامیابی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انکے پاس بینک بیلنس، بڑے بڑے عہدوں پر فائز، قیمتی گاڑیاں،عالیشان بنگلے، مال و دولت کی فراوانی ہوبلکہ یہ کہ ان کی باتوں میں تاثیر ہوگی، صبر ہوگا، قناعت پسندی اُن کا شیوہ ہوگی، دل مطمئن ہوگا ہر صورت میں اگر دل مطمئن ہوگیا تو یہ سب سے بڑی دولت ہے۔برکت حاصل ہوگی مطلب قلب سکون و راحت محسوس کریگا۔برکت کا مطلب یہ نہیں کہ اضافہ ہو بلکہ برکت کا تعلق قلب و جان کے مطمئن ہونے سے ہے۔برکت سے مراد ظاہری و باطنی سکون ہے۔

رمضان کے مقاصد کو حاصل کر پائے یا نہیں اسکا ہمیں خود سے تجزیہ کر نی چاہیئے،اگر پہلے اور بعد کی زندگی میں فرق ہے تو رمضان کے مقاصد میں دخول حاصل ہیں اگر نہیں تو ہمیں اپنا ازسر ےنو جائزہ لےکر رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی  ورنہ ہماری محنتیں رائیگاں گئی  ۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ نے فرمایا” کہ وہ اس پر ذلیل ہو گئے تو نافرمانی شروع کر دی اور اگر عزت والے ہوتے تو اسے محفوظ رکھتے” ۔

رمضان کے روزوں کو رکھ کر جو دل کو سکون نصیب ہوا تھا، صراط مستقیم کا دامن تھاما تھا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العبادکو بجا لایا تھا رمضان کے بعد اگر یہ جاتا رہا تو اس کو ضلالت و گمراہی سے کوئی نہیں بچا سکتا، ذلت اسکا مقدر ہوگالیکن دوسری طرف اسی قول و فعل پر ثابت قدم رہا توعزت اسکا مقدر ہوگااور اسے دونوں جہاں کی سربلندی نصیب ہوگی۔ کسی شاعر نے کیا صحیح عکاسی کی ہے-

رب مہربان جس پہ ہواسے خوف جہاں کیا

محفوظ بھلا اس سے بھی ہو جائے اماں کیا

قرآن کریم عمل صالح کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے، قرآن میں عمل صالح پر ثابت قدم رہنے پر بہت ساری آیات وارد  ہیں اور اسکے فوائد بھی بتائے گئے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدس کتاب میں بیان کیا کہ "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان،”( سورۂ آل عمران آیۃ102)  

اوردوسرے مقام پہ ارشاد فرمایا”مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،” (سورۂ الحجر آیۃ 99)

ان آیات طیبات سے مطلب واضح ہوگیا کہ بندگی صرف رمضان المبارک تک ہی محدود نہیں بلکہ زندگی کی آخری سانس تک درکار ہے۔

مگر آج کا مسلمان اللہ کے اس فرمان کو پس  پشت ڈال کر صرف ایک مہینہ کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہیں ،اگر ان آیات پر غور و فکر کیا جائے تو یہ واضح ہے کہ ہماری پستی کی وجہ کیا ہے ،ہم نے نماز کو رمضان تک محدود کیا۔  روزہ کو ایک مہینہ کیلئے رکھا جو ہر طرح سے تزکیہ نفس کی علامت ہے، تمام فیوض و برکات کو چند دنوں پر محمول کیا، کیا یہی غرض و غایت ہے اس آیت کی؟اگر ہم نے ایسا ہی سمجھ رکھا ہے تو پھر اللہ کا عذاب ہم پر آ چکا ہے،عذاب الٰہی چہار جانب سےگھیر چکی ہے۔موجودہ دور میں مسلمان ہر طرح سے  پستی کا شکار ہیں، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہیں، اس جہاں میں اپنی وقعت کو کھوتے جا رہے ہیں ۔معاشی، تعلیمی، سماجی، اخلاقی، سیاسی، لسانی، سائنسی، تکنیکی اور مذہبی طور پر اپنے وقار کو بحال کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں، یہ ساری چیزیں رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر حاصل کرنے والی مقصدیت کو اپنی ایک مہینہ کے بعد والی زندگی میں نہ نافذ کرنے کی وجہ سے ہے۔ روزہ کا مقصد تو تقویٰ اختیار کرنا تھا اور مسلمانوں نے قولی طور پر تو تقویٰ اپنایا مگر عملی طور پر اسکا منکر رہا۔

وقار اپنا گنوایا ہماری غفلت نے

ہمارا مول گرایا ہماری غفلت نے

اسکا مشاہدہ موجودہ دور کی لاعلاج  بیماری کورونا وائرس (Covid-19) اسی ضمن میں ہے۔یہ ہمارے افعال و کردار کی گراوٹ کا نتیجہ ہیں کہ ہم اس کی چپیٹ میں ہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے بھی اپنےحکم کی نافرمانی کرنےوالوں پر وبا کی شکل میں عذاب مسلط کیا تھا، جب جب انسان اس کی نافرمانی اور اسکے اصولوں سے روگردانی کرتاہےتو عذاب کسی نہ کسی شکل میں مسلط کر دی جاتی ہے اگر ہم  اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہتے تو شاید یہ دن دیکھنا  نہ پڑتا۔موجودہ وقت امت مسلمہ کو سنبھلنے کا مواقع  ہےاس بیماری کے ذریعے بند ۂ مومن رب العزت کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتا ہے کہ انسان ایک ادنیٰ سا وائرس کے سامنے ہیچ، کمتر، لاچار و بے بس نظر آ رہا ہے ۔   آج انسان کے سارے علوم، سائنسی تجربات، سائنسی تحقیق، تکانیک، عقلمندیاں، سب  فیل ہیں ۔ اگر مومنانہ فہم و فراست رکھتے ہیں تب تو اسے سمجھ سکتے ہیں، انسانی حقیقت کیا ہے اسے جان سکتے ہیں اور رب کی حقیقت کو  پہچان سکتے ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” ہمیشہ اچھے کام کرنے کی کوشش کرتے رہو خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو”۔(الحدیث)

 یہ  نہایت ہی ضروری ہے کہ ہم اپنی طرز زندگی میں عمل صالح کو  تسلسل کے ساتھ  قائم رکھیں ۔ تسلسل کے ساتھ عمل صالح کرنے میں ہی خیر وبرکت، کامیابی و کامرانی اورفتح و نصرت ہے خواہ ہمارا عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو مگر صدق دل سے ہو۔

 


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں