تعلیمی سال کا آغاز!ایک جائزہ

beginning of acedemic year

اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل و احسان ہے کہ خلاق کائنات نے ہمیں ایک مرتبہ پھر علمی تشنگی بجھانے کے لیے جامعات اور مدارس ِ اسلامیہ جیسے خوبصورت سر چشمہ علم و ادب میں اپنے شب و روز گزارنے کا یہ گراں قدر موقع نصیب فرمایا ہے۔

مگر افسوس کہ اس وقت ملک بھر میں پھیلے کورونا وائرس کی وجہ سے تمام علمی میکدے بند ہیں۔ تقریباً دنیا بھر کی یہی  حالت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب دھیرے دھیرے زندگی گزشتہ معمول کے مطابق  پٹری  پر آنے لگی ہے۔ متعدد سرکاری دفاتر بھی کچھ گھنٹو ں کے لئے ہی سہی لیکن اب کھلنے لگے ہیں۔ بازاروں میں بھی چہل پہل نظر آنے لگے ہیں اور لو گ اپنی ضروریات کی تکمیل میں گھروں سے باہر بھی نکل رہے ہیں۔ وطن عزیز (بھارت ) میں بھی امید ہے کہ تقریباً ایک ڈیڑھ مہینے کے بعد تمام اسکول ،کالجز،مدارس وجامعات اوریونیورسٹیاں وغیرہ کھول دیئے جائیں گے تاکہ طلباعلم کی دولت سے مالا مال ہوں۔ تا حال علم و ادب کی متلاشی روحیں اپنے اپنے آبائی وطن میں مقیم ہیں اور آن لائن پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر بہت جلد ہی وہ شہروں کے دامن سے گزرتے ہوئے ملک بھر میں پھیلے مدارس اسلامیہ ،اسکول ، کالجز ،اور جامعات میں پہنچ چکے ہوں گے ،یا پھر جو طالب علم اب تک کسی وجہ سے نہیں پہنچ سکے ہوں گے وہ بھی عنقریب اپنے والدین ،دوست و احباب ،خویش و اقارب اور پاس پڑوس کو خیر آباد کہنے ہی والے ہوں گے۔

علم کی اہمیت : 

جی ہاں ! علم کی دولت بڑی لازوال ولا جواب دولت ہوا کرتی ہے۔ علم ہی ہے جو مال و دولت کی باندی نہیں ہے بلکہ یہ تو جذبہ صادقہ کے زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہے۔ عقلمند اور با شعور افراد ہی اس سے رشتہ قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ دولت ہے جو انسانی وجود کو عزت و تکریم کی اعلیٰ کسوٹی پر فائز کرتی ہے۔ صحیح اور غلط کے مابین امتیاز کرنے اور پھر کھرے کھوٹے کو پرکھنے کا حسن ِ ملکہ بھی عطا کرتی ہے۔ سماج و معاشرہ اسے ایک ایسا رہبر و رہنما تصور کرتے ہیں جو اس کی ستارہ قسمت کو منور کر سکے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی ترقیوں کے تمام خواب شرمندہ تعبیر بھی کرا سکے۔ اور سب سے بڑی بات تویہ ہے کہ جب وہ ذی علم صاحب عمل ہو جاتا ہے تو پھر اسے اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کی خوشنودیوں کی ضمانت بھی مل جایا کرتی ہے۔

محنت و مشقت:

 لیکن یہ حقیقت بھی پردہ خفا میں نہ رہے کہ یہ متذکرہ بالا تمام چیزیں یوں ہی ہاتھ نہیں آ جا تی ہیں، بلکہ اس کے پیچھے تو جی توڑ محنتیں اور مشقتیں کرنی پڑتی ہیں۔ جہاں زمانے کی تھپیڑوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے وہیں اس پرخطر شاہراہ میں کسی آبلہ پائی کا شکوہ کیے بغیر حصولِ مقصد کے خاطر جذبہ صادقہ اور نیتِ اخلاص کے دامن کو تھامے رہنا پڑتا ہے کہ کہیں منزلِ مقصود تک پہنچنے سے آپ پیچھے نہ رہ جائیں۔ یقیناً ماضی میں فکر و فن، تحقیق و جستجو اور علوم و آگہی کے میدانوں کی قیادت کرنے والوں میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی گزری ہے جو نانِ شبینہ کے محتاج رہے ہیں۔ اس ضمن میں آپ کو کئی آیک ایسے افراد بھی ملیں گے جنہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر علم حاصل کیا، انہوں نے وقت کی نااتفاقیوں کو کبھی بھی زبان پر نہیں لایا، صبر و ہمت سے کام لیا اور پھر وقت آنے پر وہ علم و ادب کے آفتاب و ماہتاب بن گیے۔ اس طرح کی عبرت آموز واقعات آج بھی ہمارے معاشرے و سماج میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ میں تو اکثر اس طرح کی خبر سنتا رہتا ہوں کہ آج فلاں چائے بیچنے والے کا لڑکا آئی ایس  آفیسر بن گیا، فلاں کا بیٹا آج ایک  ڈی-  ایم بن گیا، فلاں کے بیٹے نے تو مزدوری و محنت کر کے بڑی ڈگری حاصل کر لی، ارے فلاں شخص جو کسی طرح رکشہ چلا کر اپنا گھر چلاتا تھا، اس تو نے اپنی بیٹی کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرانے میں زبردست کردار ادا کیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر ان سب کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ اس ضمن میں جہاں ان کے والدین کا نام روشن ہوتا ہے وہیں سماج و معاشرے کا بھی ملکی سطح پر خوب دوب پذیرائی ہوتی چلی جاتی ہے۔

 یقیناً اس طرح کے واقعات و خوبصورت حادثات ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے، انسان اگر محنت کرتا ہے تو اس کی محنت کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی ہے۔ اور ہاں محنت کسی کی بھی جاگیر نہیں ہے، ایک آدمی جو غریب ہے اس کا بھی محنت و مشقت پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ایک امیر اور صاحب ثروت کی۔ یہاں کامیابی رتبہ دیکھ کر نہیں ملتی ہے، بلکہ کامیابی و کامرانی خلوص نیت پر مبنی ہوتی ہے۔ فوز و فلاح وہی شخص پاتا ہے جو اپنی محنت و مشقت کے ساتھ انصاف کے ساتھ کام لیتا ہے۔ آج ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ اکثر طلبا محنت سے جی چراتے ہیں، وہ چاھتے ہیں کہ ہمیں بغیر محنت کے اعلی نمبر مل جائے۔ اس کے لیے اگر ضرورت پڑتی ہے تو مالدار طبقے بطور رشوت روپیے پیسے بہانے میں بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں مدارس اسلامیہ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ طلبا جب ششماہی امتحان میں ناکام‌ہوتے ہیں تو وہ اس بات پر حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ اب محنت سے پڑھیں گے تا کہ سالانہ امتحان میں اسے ناکامیوں کا‌ منہ نہ دیکھنا پڑے۔ مگر پھر جلد ہی ان کا یہ جوش و جذبہ ماند پڑ جاتا ہے اور تساہلی و تغافلی کا کٹھپتلی بن جاتے ہیں۔

وقت کی پابندی :

 ہاں! ایک کامیاب اور معزز انسان بننے میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ کامرانی کے باب میں اس قدر قوی عمل دخل ہوتا ہے کہ کوئی انسان اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ وقت تلوار کی مانند ہے اگر تم اسے نہیں کاٹو گے تو وہ تمھیں کاٹ کر آگے نکل جائے گا۔ اب اس حقیقت سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں وقت کا پہیا کس قدر اہمیت والا ہے۔ اگر آپ اسے درست نہج پر گھومنے کا موقع فراہم کرتے ہیں تو کامیابی آپ کی مقدر ہوگی       ورنہ تو پھر آپ جانیں اور آپ کا وقت جانے۔۔۔

استاد کا ادب:

 ایک پڑھا لکھا آدمی بننے کے لیے یہ بھی از حد ضروری ہوتا ہے کہ آپ اپنے اساتذہ کی اسی طرح عزت و احترام کریں جس طرح کہ اپنے والدین کر یمین  کی کرتے ہیں۔ کسی دانا کا قول ہے کہ والدین تو بس ظاہری زندگی سنوارتے ہیں، پر ایک استاد اپنے شاگردوں کی روح کو اس طرح نکھار دیتا ہے کہ پھر وہ زمانے بھر میں کامیاب و سرخرو ہو جایا کرتے ہیں۔ کوئی آپ کو اگر کوئی اچھی چیز سکھاتا ہے یا بتاتا ہے تو، چاہیے کہ آپ ان کی عزت کریں۔ ایک شاگرد جب اپنے کسی استاد کی تعظیم بجا لاتا ہے تو یہ چیز اس کے لیے حقارت کی سبب نہیں بنتی ہے ،بلکہ یہ تو اسے عزت و احترام کی زبردست کنجی فراہم کرتی ہے۔ راقم الحروف، عزیز طلبا سے یہ درخواست کرتا ہے کہ آپ بھی اپنے اساتذہ کرام کی تعظیم و تکریم بجا لائیں اور مقدر کے سکندر بن جائیں۔ یاد رکھیں! جب ایک استاد کی دعا کسی طالب علم کے لیے نکل جاتی ہے تو پھر اس کی کامیابی یقینی ہو جایا کرتی ہے، اور یہ بات بھی اسی وقت بنے گی جب ہم اور آپ اپنے اساتذہ کرام کو سدا خوش رکھیں، ان کی ناراضی کا سبب نہ بنیں اور ان کے علمی پنگھٹ سے ادب و احترام کے ساتھ سیرابی حاصل کرتے رہیں۔

 

 ادارے کی خیر خواہی و نیک نامی:

 اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ جس ادارے میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اس کی نیک نامی بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ ہمیشہ اس کی عزت کریں، اسے کبھی نیچا دکھانے کی کوشش نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے لوگوں کے درمیان اس کے سنہرے مقاصد کو واضح کریں تا کہ عوام الناس اس کی طرف مائل ہوں اور وہ ادارے کو دامے، درمے سخنے وغیرہ متعدد امداد سے تقویت بہم پہنچانے میں اعلیٰ کردار ادا کر سکیں۔ اس طرح جہاں آپ کا نام روشن ہوگا وہیں دین و سنیت کا کام بھی اعلی پیمانے پر انجام پائے گا۔

 اس لیے اب آخر میں چلتے چلتے اس پرفتن دور میں مدارسِ اسلامیہ میں زیرِ تعلیم طالبانِ علومِ نبویہ سے گوش گزار ہوں کہ خدارا ! آپ اس راہ میں درپیش مصائب و آلام سے نہ گھبرائیں بلکہ اپنے مقصد و ہدف پہ نظر رکھیں۔ اسلافِ کرام کی خوبصورت زندگیوں کا مطالعہ کریں کہ انھوں نے کتنی پریشانیوں کو گلے لگانے کے بعد کسی فن میں تبحر علمی حاصل کیں اور تب کہیں جا کہ احسن طریقے سے شجرِ اسلام کی آبیاری کیں۔ جی! آپ وقت کا بھی خاص خیال رکھیں، اسے یوں ہی بےکار ضائع نہ ہونے دیں۔ اس لیے کہ ہمیں اسی نو سالہ زندگی میں جہاں اپنے قوم کے لیے ایک قابل قدر رہبر بننا ہیں اور اس کی زلفِ برہم کو سنوارنا ہیں وہیں غیروں کے چیلنجز کا منہ توڑ جواب بھی دینا ہیں۔ یہی وہ مختصر سی زندگی ہے جس میں زندگی سے جڑی تمام خوابوں کی تعبیر کا احسن طریقہ بھی سیکھنا ہیں۔

 اس لیے اے عزیز طلبہ! آؤ چلیں اب ایک نئے عزم و حوصلوں کے ساتھ اٹھتے ہیں اور کچھ عزمِ مصمم اس طرح بھی کرتے ہیں کہ اپنے ہدف پے نظر رکھتے ہوئے ایک نئی طرنگ میں ڈوب کر متذکرہ بالا تمام خوابوں کی سچی تعبیر کریں گے۔ اور ہاں ایک درخواست ذمہ دارانِ مدارس سے بھی ہے کہ آپ ان طالبانِ علومِ نبویہ کو قوم کی امانت سمجھیں اور ان کی عمدہ تعلیم و تربیت کا انتظام کریں کہ کہیں آپ کی اس تساہلی کی وجہ سے یہ پریشان حال قوم اپنے سچے رہبر اور مخلص قائدوں سے یتیم نہ ہو جائے۔ (خدا توفیق دے)


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں