کورونا لاک ڈاؤن! طلبا کےلئے مشکلات ومواقع

Lockdonwn and Education

کورونا وائرس (19-COVID) سے صرف حکومتیں اور ادارے ہی اس مہلک مرض سے پریشان نہیں بلکہ اس  سے ایک بہت بڑا طبقہ جو اس تمام صورت حال سے متاثر ہیں وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے  ان طبقوں  میں سے ایک خاص طبقہ طلبہ کا ہے ۔ جو اس لاک ڈاؤن سے بہت ہی بری طرح متاثر ہے ان  میں سے خاص کر وہ طلبہ جو اس سال بورڈ کے امتحان دینے والے تھے۔ ان طلباء کا ایک منصوبہ (planning )متعین ہوتا ہے اسی منصوبے کے تحت کامیابی حاصل کر نےکےلئے جدوجہد  کے ساتھ پڑھائی کرتے ہیں ۔

ہندوستان میں ہر سال فروری  ماہ سے ہی کسی نہ کسی بورڈ کے امتحان کا آغازہوجاتا ہے جس کی بناپہ ٪40 فیصد طلبہ اپنی تیاری مکمل کر لیتے ہیں اور اسی انتظار میں ہوتے ہے کہ امتحان جلد ہو جائے تاکہ مقابلہ جات (competition ) امتحان کی تیاری کر سکوں۔  چنانچہ ایسی صورت حال میں جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو پہلے بچے کافی خوشی محسوس کیا کہ پڑھائی کےلئے مزید وقت مل گیا ۔ مگر جوں جوں  کرونا  وبا کی صورت حال غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے  جس کی وجہ سے طلبا کی اکثریت ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے خاص کر وہ طلبہ جن کا امتحان ملتوی کردیا گیا ہے۔

اس حالت میں طلبا کو افسردہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے مثبت انداز میں لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سخت صورتحال کو بھی فائدہ اٹھانے کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

چنانچہ آپ اس سے فائدہ اٹھائیں اور جو بھی آپ کے ویک پوائنٹس  ہیں ان پر توجہ دیں اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کرنے کا بھی سنہرا موقع ہے۔ اپنے موضوع کے متعلق آن لائن لیکچر اور ویڈیوز دیکھیں۔  اس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا اور جو آپ نے پڑھا ہے اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے گا۔  وقت کو ضائع نہ کرے بہت سے طلباء و طالبات یہ سوچ کر وقت ضائع کرتے ہیں کہ  ابھی کافی وقت ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور دنیا وی لہو ولعب  اور سوشل میڈیا پر پورا وقت صرف کر دیتے ہیں جو نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اوراگر  اس کاصحیح  استعمال کریں گے تو آپ کے لیے مفید ثابت ہوگا ۔

موجودہ صورتحال نے طلبہ کو اس بات  پر برانگیختہ کیا کہ اب ہمیں اس ترقی یافتہ ملک میں ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنے معیار کو بلند کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر ٹیکنالوجی سے اچھی طرح واقف نہیں ہوں گے تو اس کے استعمال میں کافی دشواری ہو گی اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو اچھی طرح سمجھے اور اس کا صحیح استعمال کریں ۔

ورنہ یاد رکھیں اگر آج آپ نے وقت کو نظر انداز کر دیا کہ یہ وقت بھی آپ کو نظر انداز کر دے گا اور آپ کے اپنے مستقبل کے تمام اہداف آپ کے ہاتھوں سے ریت کی طرح فصل جائیں گے۔

یہ جو موقع ملا ہے اس کو غنیمت جانیں اور اس کا صحیح استعمال کریں ۔ کیونکہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا۔

"اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ حَیَاتَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَشَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَغَناکَ قَبْلَ فَقْرِکْ "
( مستدرک حاکم – 4:306)

ترجمہ: پانچ چیزوں کوپانچ سے قبل غنیمت سمجھو ، زندگی کو مر نے سے پہلے اور صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اور مالداری کو فقر سے پہلے۔

اس حدیثِ پاک میں ہر صاحب ِ ایمان کے لیے یہ تعلیم ہے کہ آدمی کی فہم و دانش کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس فانی زندگی کے اوقات کو بہت دھیان اور توجہ کے ساتھ گزارے ، زندگی کو مرنے سے پہلے غنیمت سمجھے اور اس بات کا استحضار رکھے کہ کل بروزِ قیامت اس کی ہرہر چیز کا حساب ہو گا ، اس سے ہر چیز کے بارے میں باز پرس ہو گی اور اسے اپنے ہر ہر قول و فعل کا جواب دینا ہے، کراماً کاتبین اس کے قول و فعل کو نوٹ کر رہے ہیں ، قیامت کے دن اس کے اعمال نامے کو تمام اوّلین و آخرین کے سامنے پیش کیا جائے گا ۔ یہ وقت بڑی قیمتی دولت ہے، اس سے جو فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ کر لیا جائے، آج صحت و تند ستی ہے، کل نہ معلوم کس بیماری کا شکار ہو نا پڑجائے، آج زندگی ہے، کل منوں مٹی کے نیچے مد فون ہو نا ہے، آج فر صت ہے کل نہ معلوم کتنی مشغولیتیں در پیش ہو جائیں ۔

نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ
(بخاری- 2:949؛ ترمذی- 2:56)

ترجمہ: صحت اور فراغت دو ایسی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے سلسلہ میں بے شمار لوگ خسارہ میں رہتے ہیں اس لیے بعد میں پچھتانے سے یہ بہتر ہے کہ انسان آج ہی قدرکر لے۔

آج  یہ سنہرا موقع  ملا ہے، کل نہ جانے کن احوال سے سابقہ پڑے اور کیا امراض و عوارض لگ جائیں آج صاحبِ حیثیت ہیں، کل پتہ نہیں کیا حالت ہو جائے؟ اس لیے جوحاصل  کر نا ہے کرلیا جائے، جو کمانا ہے کمالیا جائے، جو فائدہ اٹھا نا ہے اٹھالیا جائے ورنہ  ” اَلْوَقْتُ کَالسَّیْفِ اِنْ لَمْ تَقْطَعْہُ لَقَطَعَکَ”وقت دودھاری تلوار ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا، وہ تمہیں کاٹ ڈالے گی۔

 

وقت کی قدر شناسی اور ہمارے اسلاف:

جب ہم اپنے اسلاف و بز ر گانِ دین کی سیرت  کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے اپنی حیات ِ فانی کاسفر پوری ہوش مندی اور بیداری کے ساتھ مکمل فرمایا اور زندگی کے تمام مراحل میں وقت کے ایک ایک لمحہ کو بہت ہی قدر دانی اور ضبط کے ساتھ گزارا۔ اسی طرح جب ہم کسی سائنٹسٹ یافلاسفر وغیرہ کے متعلق مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی بھی زندگی  کا ایک ایک لمحہ  اسلاف سے ملتا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ  وقت انسان کو انسان بناتا ہے، چونکہ جتنے بھی لوگوں نے بڑے بڑے کارنامے  انجام دیے ہیں، انھوں نے وقت کی قدر کی تھی، اگر آج ہم بھی وقت کی قدر کر لیں تو انشاءاللہ فلاح وکامرانی کو پالیں گے۔

امام رازی کے نزدیک او قات کی اہمیت اس درجہ تھی کہ ان کو یہ افسوس ہو تا تھا کہ کھانے کا وقت کیوں علمی مشاغل سے خالی جاتا ہے؛ چنانچہ فرما یا کر تے تھے :

وَاللّٰہِ انّي أتَأسَّفُ فِي الْفَوَاتِ عَنِ الْاشْتِغَالِ بِالْعِلْمِ فِيْ وَقْتِ الْأکْلِ فَانَّ الْوَقْتَ وَالزَّمَانَ عَزِیْزٌ۔

ترجمہ: خدا کی قسم مجھ کو کھانے کے وقت علمی مشاغل کے چھو ٹ جانے پر افسوس ہو تا ہےکیونکہ وقت متاعِ عزیز ہے۔

وقت کی قدر دانی نے ان کو منطق و فلسفہ کا ایسا زبر دست امام بنا یا کہ دنیا نے ان کی امامت تسلیم کی ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی وقت کے بڑے قدر دان تھے، ان کے او قات معمور رہتے تھے، کسی وقت خالی نہ بیٹھتے تھے۔تین مشغلوں میں سے کسی نہ کسی میں ضرور مصروف رہتے تھے، مطالعہٴ کتب یا تصنیف و تالیف یا عبادت  (بستان المحد ثین)

 

ضیاع وقت کا ایک بڑا سبب:

آج کے اس پر فتن دور میں طلباء کے قیمتی او قات کے ضیاع کا سب سے  بڑا سبب مو بائل فون بنا ہوا ہے اس کے ذریعہ سوشل میڈیا اور دیگر پروگراموں میں  بے جا  وقت صرف کرنےکا ایک عام مزاج بن گیا، گھنٹوں اس میں ضائع کر دینا، ایک عام سی بات ہو گئی ، کبھی اس طرف خیال نہیں جاتا کہ میرا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے بارے کوئی فکر نہیں ہوتی  ، خود کو بھی دھو کہ دے رہے ہیں اور اپنے اساتذہ ، سر پرستوں اور والدین کو بھی اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں، اللہ رب العزت ہی ان کے حال پر رحم فرمائے ، اور انہیں عقلِ سلیم عطاء فرمائے کہ وہ اپنامستقبل روشن و تابناک بنانے پر محنت کریں اور اپنے اہلِ خانہ کی اس گاڑھی کمائی کی قدر کریں کہ جو بسیار محنتوں و مشقتوں کے ساتھ رزق حلال کما کر اپنے بچوں کی پرورش  کر تے ہیں باری تعالیٰ انہیں اچھی سمجھ سے نوازے! آمین ۔


متعلقہ پوسٹ

One Thought to “کورونا لاک ڈاؤن! طلبا کےلئے مشکلات ومواقع”

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں