لاک ڈاؤن اور اس کی تاریخ

Lockdown

کورونا وائرس سے محفوظ رہنے اور اس کی روک تھام کی خاطر پورے عالم کو مقفل کیا گیا۔ ہر ملک کے سربراہ نے اپنے اپنے حساب سے اپنے اپنے ملک میں تالا بندی کی، تالا بندی کہیں نفع مند تو کہیں نقصان دہ ثابت ہوا-پورا عالم ایک قید خانہ کی شکل اختیار کر لیا، جسکا نتیجہ عالمی معشیت تباہ و برباد ہونے کے دہانے پر آ گئی، انسانی جان کی قدر و قیمت ایک طرف بچانے کے نام پر بحال رکھا گیا تو دوسری طرف انسانی قدروں کو پا مال کرتے ہوئے اسکو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں تالا بندی کئی درجے میں کی گئی-

تعریف:

تالا بندی کا استعمال تب ہوتا ہے جب کسی چیز پر کنٹرول یا قابو کرنا ہو، وہ آفت، مصیبت، سیلاب، طوفان، آگ، دہشت گردی، قتل و غارت گری، قدرتی آفات، وبا، پریشانی، بیماری، جراثیم وغیرہ ہو مگر خطرے سے خالی نہ ہو، اگر تالا بندی نہیں کیا گیا تو وه انسان کو اپنی لپیٹ میں اسطرح لے لیا کہ جینا دوبھر ہو جائے اور وہ صرف اسی تک محدود نہ رہے بلکہ دوسروں کو بھی دامن گیر کر لے۔

لفظ لاک ڈاون کا معنى کسی عمارت میں تالا بندی ہے مطلب اس عمارت میں کسی کو آنے یا جانے کی اجازت نہ ہو، اصل میں تالا بندی کا استعمال قیدیوں کیلئے ہوتا رہا ہے، جس میں خطرناک قیدی کو بند کیا جاتا ہے تاکہ وہ باہر بھاگ نہ سکے، وہ جگہ جہاں پر مجرمانہ حرکت کرنیوالے کو قید کیا جائے۔

لفط Lockdown انگریزی زبان کے دولفظ Lock اور Down سے مل کر بنا ہوا ہے جسکا مطلب ہوتا ہے جلدی اور تیزی سے روکنا یعنی جس رفتار سے کوئی چیز بڑھ رہی ہے اس پر روک لگا کر قابو پایا جائے۔Covid-19 بھی ایک وبائی مرض ہے اور اسکا دائره چین کے ووہان سے نکل کر دنیا کے دوسرے ملکوں، شہروں، قصبوں، دیہاتوں، میں بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے، فوری طور پر اسکا واحد حل تالابندی ہے، تالا بندی کے ساتھ ساتھ بہت سارے احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کرنے ہوتے ہیں تاکہ کورونا جیسی جراثیم سے اپنے کو محفوظ رکھ سکیں اور دوسروں کو بھی۔

تالابندی کے اقسام:

بنیادی طور پر تالا بندی کی چار قسمیں ہیں-

  • سیاسی تالابندی
  • احتیاطی/تدبیری تالابندی
  • متعدی تالابندی
  • عالمی وبا

 

1)   سیاسی تالا بندی:

جب حکومت سیاسی اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے، اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے، زبردستی کوئی قانون نافذ کرنے کے لئے، کوئی حکم صادر کرنے کے لئے، اپنا فیصلہ تھوپنے کے لئے، کسی شہر، صوبہ یا ملک کو مقفل کر دے، اور انسانی آزادی کو چھین کر، حیوانوں سے بدتر سا سلوک کیا جانے لگے تو اسے ہم سیاسی تالا بندی کا نام دیتے ہیں۔

2)  احتیاطی/تدبیری تالا بندی:

 اسطرح کی تالا بندی جس سے سماج، علاقہ میں کسی قسم کی بڑی پریشانی و ٹکراؤ پیدا نہ ہو جائے، یا کسی انہونی کو روکنے کیلئے ہو جس سے انسانی زندگی کے خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو، کسی ناخوشگوار حادثہ کو ٹالنے کیلئے، احتیاطی اقدام اٹھانے کی خاطر، ایمرجنسی کی حالت میں فوراً قابو پانے کے لئے، اسکی روک تھام کیلئے جو تالا بندی کی جائے اسے احتیاطی تالا بندی کہیں گے۔

3)   متعدی تالا بندی:

 جب کوئی مرض ایک انسان سےدوسرے انسان، یا ایک جانور سے دوسرے جانور کو لگ جائے تو اسے متعدی مرض کہتے ہیں، ایک دوسرے کے رابطہ میں آنے کی وجہ سے مرض میں مبتلا ہوتا ہے، اسطرح سے یہ مرض تیزی سے پھیلتا ہے، اسکو روکنے کے لیے متاثرہ شخص کو دوسروں سے دور رہنے کو کہا جاتا ہے، اسے چھوت کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔اس پر قابو پانے کیلئے تالا بندی کی جاتی ہے تاکہ یہ جراثیم اپنی جگہ پر ہی ختم ہو جائے، کوئی ایک دوسرے کے قریب نہ آئے اور دوری برقرار رکھے۔

4)   عالمی وبا (Pandemic):

 ایسا متعدی مرض جو پورے عالم کو اپنی زد میں لے لیا ہو مثلاً19-Covid  ایک عالمی وبا ہے، اس نے دنیا کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اکثر ملک اس وبادوچار ہورہا ہے کورونا سے،WHO  (عالمی ادارہ صحت) نے 19- Covid کو عالمی وبا قرار دیا ہے، اپریل 2020 کے اخیر ہفتہ تک تقریباً دو تہائی عالمی آبادی تالا بندی کے زد میں آ چکا تھا، امریکہ و یوروپ کی زیادہ تر آبادی کو تالا بند کیا گیا، تالا بندی جسمیں ضروریات زندگی کی اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہوتی ہے، بلا کسی اہم ضرورت کے نہیں نکل سکتے، گھر پر رہیں اور محفوظ رہیں، جسمانی دوری بنا کر رہیں، خود کو اور دوسروں کو بچائیں۔

تالا بندی تاریخ کے آئینے میں:

موجودہ حالات میں جو تالا بندی کی شکل ہے، اس نے پوری دنیا کو اپنی زد میں لے رکھا ہے، اتنے بڑے پیمانے پر تو اس کی کوئی نظیر نہیں، مگر مختصر طور پر تالا بندی کا تصور پہلے سے ہی موجود ہے، تالا بندی جو 70 کے عشرے میں قیدیوں کے کاراواس اور دماغی مریض کو قید کرنے کی غرض سے شروع ہوا، اس میں انہیں کسی خاص عمارت میں رکھا جاتا تھا، اور اُنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی-

جلیل القدر پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں چینوٹیوں کا اپنے بلوں میں قید ہوجانا وقتی طور پر، تالا بندی کے تصور کو پیش کرتا ہے، بھارت میں اگست 2019 میں صوبہ کشمیر میں سیاسی مقصد کی خاطر تالا بندی، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ستمبر 2011 میں حملے کے بعد امریکی شہری فضائی حدود کو تین دن کے لیے بند کر دیا گیا، 19 اپریل 2013 کو بوسٹن شہر میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے نقل و حمل پر روک لگا دی گئی، کسی جگہ تالا بندی کرنے کا مقصد پریشانی سے نجات دلانا، انسانی زندگی کی حفاظت کرنا، اپنی مقصد میں کامیابی حاصل کرناہوتا ہے، تالا بندی انسانی تاریخ میں مختلف شکلوں میں، مختلف وجوہات کی بنا پر، مختلف نوعیت کی رہی ہے۔

1665 میں ‘پلیگ’ اور 1720 میں ‘مرسائل کی پلیگ’ جیسی بیماری نے وبا کی شکل اختیار کی جسکی وجہ سے بے تحاشا لوگوں کی موت ہوئی، لوگوں کو علاج کیلئے قرنطینہ میں رکھا گیا۔ دسمبر 2005 میں نسلی فسادات کو روکنے کی غرض سے Southerland  میں تالا بندی کیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ تالا بندی کوئی نئی اصطلاح، نئی بات، نیا لفظ، یا نیا عمل نہیں بلکہ مختلف شکلوں میں اسکا انسانی تاریخ میں وجود رہا ہے۔

تالا بندی کی وجہ:

 کووڈ-19 جیسے وبائی مرض کی روک تھام کے لیے تالا بندی کی ضرورت پیش آئی، کووڈ-19 ایک متعدی مرض ہے، انسانی کورونا کا دریافت سب سے پہلے 1960ء میں ہوا، یہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا جرثومہ ہے، کم وقت ہی میں یہ وائرس سارے شہروملک کو اپنی چپیٹ میں لے لیتا ہے، یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو تا ہے، کورونا سے متاثر شخص اگر چھینکے يا کھانسے تو اپنے قریب کےموجود ہ شخص میں سانس لینے کے دوران کورونا وائرس کے اثرات کا اس میں منتقل ہو جانے کا غالب امکان رہتا ہے، اسی وجہ سے متاثرہ شخص کے ربط میں آنے والے شخص کو بھی ماسک لگانے کیلئے کہا جاتا ہے، تاکہ وائرس کی منتقلی کا اندیشہ کم از کم ہو۔ اس کے علاوہ اگر متاثرہ شخص کسی بھی چیز کو چھوتا ہے تو اسکے جسم میں موجودہ وائرس اس چیز سے بھی چپک جاتا ہے اور اگر کوئی صحت مند شخص اس چیز کو چھو لے تو یہ وائرس اسکی طرف بھی منتقل ہو جاتا ہے، اور اگر وہ اپنے متاثرہ ہاتھوں سے اپنی ناک، آنکھ یا پھر اپنے منہ کو چھوئے تو ان راستوں سے یہ وائرس اسکے جسم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے بار بار ہاتھ دھونے کی صلاح دی جاتی ہے کیونکہ اگر کسی شخص نے ایسی چیز کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر چھو لیا ہو تو ہاتھ دھو لینے پر وائرس وہیں ختم ہو جائیگا اور اسکے جسم میں منتقل ہونے کے امکانات تقریباً ختم ہو جائینگے۔ کیونکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ انسان کے ہاتھ اکثر اسکی ناک اور آنکھ پر چلے جاتے ہیں، ہاتھ دھوتے رہنے سے اگر ایسا ہو بھی جائے تو خطرہ نہ کے برابر رہتا ہے۔

ہندوستان میں تالا بندی کا آغاز:

 تالا بندی کی شروعات چین ملک کے شہر ووہان سے ہوا۔ ووہان ہی کورونا کا پہلا مرکز رہا، مگر یہ صرف چین کے ووہان تک محدود نہیں رہا بلکہ یکے بعد دیگر دنیا کے بیشتر ممالک اس کی زد میں آتے گئے۔ جس کے پیش نظر ان ممالک کو بھی تالا بندی دیر سویر کرنی پڑی تاکہ کورونا کے بڑھتے تسلسل کو توڑا جا سکے۔

بیشتر ملکوں نے مارچ 2020 میں تالا بندی کا اعلان کیا، تالا بندی کرنے والے کچھ قابل ذکر ممالک اس طرح ہیں :

  • بھارت نے 25 مارچ 2020 سے قومی سطح پر 21 دونوں کے لیے تالا بندی کی۔
  • امریکہ نے کوئی باضابطہ تالا بندی کا اعلان تو نہیں کیا مگر بہت ساری ہدایات جاری کیں جو تالا بندی کے مشابہ ہی ہے۔
  • ایران نے 14 مارچ کو تالا بندی کی جو کچھ ہدایات کے ساتھ 21 اپریل کو ختم کر دیا گیا۔
  • جرمنی نے 23 مارچ سے تالا بندی کی۔
  • عراق نے 22 مارچ سے 11 ایریل تک۔
  • نیپال نے 24 مارچ سے 14 جون تک۔
  • نیوزی لینڈ نے 26 مارچ سے 14 مئی تک ملک کو بند رکھا-
  • سری لنکا نے بھی قومی سطح پر 18 مارچ سے 26 مئی تک تالا بندی کی۔
  • عرب امارات نے 26 مارچ سے 17 اپریل تک۔
  • سعودی عرب نے الگ الگ شہروں کے لئے الگ الگ تاریخوں میں تالا بندی کی، جیسے مکّہ، مدینہ اور ریاض میں تالا بندی 26 مارچ کو کی گئی۔ وہیں جدہ شہر میں 29 مارچ سے تو دوسری طرف طائف میں 9 مارچ سے ہی۔
  • پاکستان میں 24 مارچ سے 9 مئی تک تالا بندی رہا۔
  • انگلینڈ نے 23 مارچ سے قومی سطح پر تالا بندی کی۔
  • ترکی نے صرف 30 شہروں کو تالا بندی کے نذر کیا۔
  • روس نے بھی الگ الگ تاریخوں میں تالا بندی کی۔
  • فرانس نے 17 مارچ سے 11 مئی تک تالا بندی کی۔

بھارت جہاں قومی سطح پر 25 مارچ سے تالا بندی کی شروعات ہوئی اور مرحلہ وار بڑھتا گیا۔بھارت میں Covid-19 کا پہلا کیس 30 جنوری 2020 کو صوبہ کیرالہ سے آیا، اور وہ شخص بھی چین سے لوٹا تھا، کورونا مریضوں کی تعداد تقریباً 500 کے پہنچنے پر بھارت سرکار کو اندیشہ لا حق ہوا کہ اگر اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو پورا ملک اس کی زد میں آ جائےگا جس کے پیش نظر وزیر اعظم ہند نے 19 مارچ کو کہا کہ 22 مارچ کو بروز اتوار عوامی کرفیو رہے گا، پورا ملک بند رہے گاصبح کے سات بجے سے رات کے 9 بجے تک یعنی 14 گھنٹے کیلئے، اور اسی عوامی خطاب میں کہا کہ عوامی کرفیو کی شام 5 بجے اپنے اپنے گھروں کی کھڑکیوں پر، دروازوں پر، یا بالکونیوں میں آکر تالیاں یا گھنٹیاں بجائیں تاکہ کورونا وائرس کا تسلسل ختم کیا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے دوسرا عوامی خطاب 24مارچ کی رات آٹھ بجے کیا، خطاب میں عوامی کرفیو کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کا شکریہ ادا کیا، اور ساتھ ہی ساتھ ایک نئے دور میں نئی زندگی جینے کیلئے تیار ہونے کو کہا، اور وہ نیا دور آج رات 12 بجے سے شروع ہونے جا رہا ہے یعنی کورونا جیسی وبا کو شکست دینے کے لیے تالا بندی کی ضرورت ہے ملک کو، جسکے پیش نظر 4 گھنٹے بعد ملک میں تالا بندی 21 دنوں کیلئے کیا جا رہا ہے۔

پہلا مرحلہ: 24 مارچ سے تالا بندی کے پیش نظر صرف کچھ جو نہایت ہی اہم و ضرورت کی خدمات ہے اسے چھوڑ کر ساری خدمات معطل رہیں گی (جیسے کرانہ دکان/اناج کی دکان، پٹرول پمپ، بینک، اے ٹی ایم وغیرہ)۔ اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، 26 مارچ کو وزیر خزانہ نے 170,000 کروڑ روپیے کا اعلان کیا، جسکا استعمال تالا بندی سے متاثر عوام پر کیا جائےگا۔ ریل، بس، ہوائی جہاز کی خدمات کو معطل کر دیا گیا، جسکی وجہ سے لاکھوں، کروڑوں لوگ پھنس کر رہ گئے۔

دوسرا مرحلہ: 15 اپریل سے 3 مئی کا رہا جسکا اعلان وزیرِ اعظم نے پہلے مرحلہ کے تالا بندی کے آخری دن کیا۔ اسطرح سے تالا بندی کو بڑھایا گیا، 16 اپریل کو تالا بندی والے علاقے/حدود کو تین زونوں میں تقسیم کیا گیا، ریڈ زون یعنی جہاں کورونا مریضوں کی تعداد اچھی خاصی ہے، جنہیں پہلے ہاٹ اسپاٹ[Hot spot] کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جہاں کچھ لوگ متاثر ہیں اسے اورنج زون کا نام دیا گیا، اور جو علاقہ متاثر نہیں اسے گرین زون میں رکھا گیا اور کہا گیا کہ ہر علاقہ پر نظر رکھا جائےگا۔ جس علاقہ میں متاثرہ کی تعداد میں اضافہ پایا جائےگا وہاں تالا بندی جاری رہے گی مگر اس کے بر عکس، متاثرہ کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو وہاں20 اپریل سے چھوٹ دی جائے گی۔ 20 اپریل سے زراعتی کاروبار کو بھی چھوٹ دی گئی، نقل و حمل کے ذرائع کو بھی چھوٹ کے زمرہ میں رکھا گیا، کچھ ہدایات کے ساتھ۔ 25 اپریل سے چھوٹے موٹے دکان کو بھی کھولنے کی اجازت دی گئی مگر شرائط و ہدایات کے ساتھ کہ اسٹاف کی تعداد کو نصف کرنا ہوگا، سماجی و جسمانی دوری کا خیال کرنا ہوگا، ماسک پہننا ہوگا، سینٹائز کرنا ہوگا، دوری کا خیال کرنا ہوگا، اور ملک کے کسی بھی صوبہ میں آنے جانے کی اجازت ہوگی مگر سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ ہی۔

تیسرا مرحلہ: 4 مئی سے 17 مئی تک کا ہے۔ تیسرے مرحلہ میں تالا بندی کو مزید دو ہفتہ کے لیے بڑھا گیا کچھ چھوٹ کے ساتھ، پورے ملک کے اضلاع کو تین زون میں بانٹا گیا، گرین زون میں بسوں کو چلانے کے اجازت دی گئی مگر بسوں کی نصف صلاحیت کے ساتھ۔

چوتھا مرحلہ: 18 مئی سے 31 مئی تک کا رہا، اس مرحلہ میں صوبائی حکومت کو یہ ہدایت دی گئی کہ ایک نیا خاکہ تیار کریں، ہدایات کے ساتھ چھوٹ دیا جائے، ساتھ ہی ریڈ زون کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک کا نام کنٹنمنٹ زون اور دوسرے کا نام بفر زون ہو اور کنٹنمنٹ زون میں کسی قسم کی چھوٹ نہ دی جائے۔

پانچواں مرحلہ: جسے ان لاک (Unlock 1.0) کا نام دیا گیا۔ یہ مرحلہ 1 جون سے 30 جون تک کا رہا، حکومتی ہدایات کے مطابق سوائے ریڈ زون کے ذیلی زون یعنی کنٹنمنٹ زون کو چھوڑ کر باقی تمام زونوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی مگر احتیاط برتتے ہوئے، 8 جون 2020 سے عبادت گاہوں، شاپنگ مال، بازار، ہوٹل، ریستوراں، وغیرہ کو اجازت تو دی گئی کھولنے کی مگر بھیڑ جمع نہ کرنےکی ہدایت پر عمل کرنے کی نصیحت بھی دی گئی اور اس میں لاپروائی برتنے پر سخت سے سخت کاروائی کی بات کہی گئی۔مرکزی حکومت نے صوبہ کو اختیار دیا کہ اپنے صوبہ کے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ لیں، مگر ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، رات کا کرفیو جاری رہے گا مطلب رات کے 9 بجے سے لیکر صبح کے 5 بجے تک۔

انلاک 2.0: انلاک فیز -2 (Unlock 2.0) یکم جولائی سے 31 جولائی تک رہے گا، جسمیں ریل (جزوی طور پر)، پرائیویٹ و سرکاری خدمات، ہوائی جہاز(اندرون ملک)، وغیرہ کو چالو کر دیا گیا، تعلیمی ادارے، میٹرو، سنیما ہال، وغیرہ 31 جولائی تک بند رہیں گے، رات کے 10بجے سے صبح کے 5بجے تک کرفیو جاری رہے گا، کنٹنمنٹ زون میں صرف ضروری اشیاء کی فراہمی کو چھوڑ کر کسی طرح کا کوئی کام نہیں ہوگا۔


متعلقہ پوسٹ

One Thought to “لاک ڈاؤن اور اس کی تاریخ”

  1. Sagheee

    Ma sha Allah bahut hi ache
    Bahut hi aasan lafzoume aap ne likha hai

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں