لاک ڈاؤن اور اسلامی نقطہ نظر

Stay Home

دین اسلام ایک ہمہ گیر و عالمگیر مذہب ہے ،اسلام میں انسانوں کے زندگی بسر کرنے، آنیوالی مصیبتوں، دکھوں، پریشانیوں، آفتوں، بیماریوں، غرض ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے اور جوجھنے کا ذکر موجود ہے۔ انسانی جان کو بچانے کی سختی سے تلقین اور تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں کرونا جیسی وبائی مرض سے بچنے کی جو تدبیریں ان سب کا جڑاو قرآن و حدیث سے ثابت ہے، ان تدابیر میں سے ایک تالا بندی بھی ہے ۔

کرونا قدرت کی طرف سے مسلط کردہ ایک عذاب ہے پہلے کی قوموں کی طرح، جب انسان اپنے خالق کی منشا کے مطابق عمل نہیں کرتے، اسکا حکم ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، صراط مستقیم سے دوری بنا لیتے ہیں اور اس پر چلنا اپنی توہین سمجھنے لگتے ہیں، ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن ہو جائے، جانوروں جیسا حرکت کرنے لگے، اور وحدہ لا شریک کے حکم کی علی الإعلان خلاف ورزی کرنے لگے تو اسکی طرف سے عذاب کا آنا تقریباً طے شدہ ہے، اور اسکی قہر سے کوئی بچ نہیں سکتا، جب رب کی طرف سے رسی کو ٹائٹ کر دیا جاتا ہے تو انسانوں کی ساری چالاکیاں، دانشمندیاں، ہیکڑیاں،عقلمندیاں، توانائیاں، علوم، اسباب، اورطاقتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، جسکا مشاہدہ کووڈ –١٩ میں ہوا۔

تالا بندی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے، حدیث مبارکہ ہے کہ اگر آندھی، طوفان، زوروں کی بارش، اور شدید بیمار ہو تو چاہئیے کہ گھر میں رہ کر ہی نماز جیسی اہم عبادت کو انجام دے، جو تالا بندی کے تصور کو پیش کرتا ہے۔ صبر و قناعت اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب و مقبول ہے جو اس تالا بندی کا خاصہ رہا۔

امیرالمومنین و خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شام کے سفر کے دوران معلوم ہوا کہ راستے میں ایک جگہ پر طاعون جیسی وبا پھوٹ پڑا ہے جس میں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے ہیں، کچھ صحابہ کرام نے آپ کو وہاں جانے کا مشورہ دیا تو کچھ حضرات نے سختی سے روکا، اور آپ نے واپس لوٹنے کا فیصلہ فرما یا، اس پر

حضرت عبیدہ بن جراح نے کہا کہ کیا آپ اللہ کی تقدیر سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں؟ امیرالمومنین نے جواب دیا اللہ کی تقدیر کی طرف راہ فرار اختیار کر رہا ہوں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر طاعون جیسی وبا یا کوئی دوسری وبا پھوٹ پڑے تو گھروں میں محصور ہو جانا چاہیے تاکہ خود اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکیں، جانوں کو بچایا جا سکے۔ تالا بندی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے نہ کہ اس کے مخالف۔

 

قرآن و حدیث کی روشنی میں تالا بندی و قرنطینہ (طبی قید):

تالا بندی اور قرنطینہ کوئی نئ ایجاد نہیں، جسے طبی سائنس نے بتایا ہو بلکہ اسکا تصور تو تقریباً ساڑھے چودہ سو برس پہلے ہی قرآن و حدیث میں موجود ہے، قرآن مجید میں سورۃ نمل میں واضح طور پر تالا بندی کا تصور پیش کیا گیا ہے جب جان کو خطرہ ہو۔ اس سورہ میں اللہ تعالٰی نے سلیمان علیہ السلام اور چیونٹی کا ذکر فرمایا ہے : جب سلیمان علیہ السلام کی فوج چینوٹیوں کے گھر سے گزرتی ہے تو چیونٹیوں کی سردار اسے مشورہ دیتی ہے کہ "اے چینوٹیوں اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ بے خیالی میں سلیمان علیه السلام اور انکا لشکر تمہیں روند دے اور تم ہلاک ہو جاؤ”۔

تالا بندی اور قرنطینہ سے وبائی مرضوں کا تسلسل ٹوٹتا ہے، مرضوں کا پھیلاؤ نہیں ہو پاتا ہے۔ جہاں ہوں وہیں رک جانا، خود اور آس پاس میں رہنے والوں کو محفوظ رکھنا، معاشرہ میں اسے پھیلنے سے روکنا ایک خالص اسلامی تعلیمات کے مطابق و موافق ہے۔ باری تعالیٰ کا ارشاد ھیکہ "اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو، بلکہ ایسی جگہوں سے پرہیز کرو جہاں جانے سے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو”۔

قرآنی آیات سے واضح ہے کہ تالا بندی ضرورت پڑنے پر کیا جا سکتا ہے اور یہ ایک اسلامی شیوہ، طرز وطریقہ ہے انسانی جان کو ہلاکت سے بچانے کا۔

قرآن کے علاوہ متعدد احادیث بھی اس سلسلے میں وارد ہیں۔ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ”جب کسی جگہ بیماری پھیل جائے تو وہاں کے لوگ بستی سے باہر نہ جائیں اور جو بستی سے باہر ہیں وہ اس جگہ نہ جائیں”۔(الحدیث)

دوسری حدیث جو بُخاری شریف کی ہے کہ”جب کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑے تو اس علاقہ میں نہ جاؤ اور اگر اس علاقے میں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلو”۔(الحدیث)

آنے جانے سے اندیشہ ہے کہ ہم خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ہلاکت کا سبب بن جائیں، جو کھلے طور پر تالا بندی کا تصور پیش کرتا ہے، موجودہ تالا بندی کا بھی واحد مقصد اس وبا کو پھیلنے سے روکنا اور انسانی جان کو ہلاک ہونے سے بچانا ہے۔

ایک دوسری روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے ہے کہ”جب کسی شخص کو طاعون گھیرے تو اسے چاہئے کہ اپنی جگہ پر ہی رہے، کہیں آئے جائے نہیں، صبر کرے، دعا کرے، اور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھے”اس سے معلوم ہوا کہ تالا بندی کے بارے میں ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں برس پہلے ہی بتا دیا تھا، جنہیں میڈیکل سائنس اب سختی سےلوگوں پر نافذ کر رہی ہے۔

ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار آدمی کو تندرست آدمی سے الگ رکھا جانا چاہیے [مسلم 2221]

اس کے علاوہ بھی کئی واقعات اسلامی کتب میں موجود ہیں جو تالا بندی پر دلالت کرتی ہیں،

اسلامی تاریخ میں 18 ہجری میں پیش آنے والا طاعون کا ذکر مناسبت سے خالی نہیں، 18 ہجری میں ملک شام میں مسلم افواج اور رومیوں کے درمیان جنگ ہو رہی تھی جسمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ، اور دیگر مقتدر و جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے، اس جنگ میں عمر بن العاص نے فوج کی کمان سنبھالی اور لوگوں کو منتشر ہونے کا، ایک جگہ جمع نہ ہونے کا، گروہوں میں اکٹھا نہ ہونے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ یہ (طاعون) آگ کی مانند ہیں جسکے پیش نظر دوری بنا کر رکھیں۔

ایک دوسرا واقعہ خلیفہ دوئم کا ہے:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بستی سے گزر ہوا، حضرت ابو عبيده بن جراح اور انکے ساتھیوں نے انہیں بتایا کہ اس بستی میں طاعون کی وبا پھیلی ہوئی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشوره کیا اور بستی میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ لیا حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اصرار کے باوجود بھی اور سفر کا ارادہ ترک کر دیا۔

اس قسم کے کئی واقعات اسلامی تاریخ میں ملتے ہیں، ایک دوسرا واقعہ قاہرہ شہر کا ہے جو 833 ہجری میں پیش آیا، 833 ہجری میں قاہرہ میں طاعون پھیلا جس میں ہرروز اچھی خاصی تعداد موت کا شکار ہو رہی تھی، چنانچہ شہر کے بزرگوں نے یہ فیصلہ لیا کہ شہر سے باہر نکل کر صحرا میں اجتماعی دعا کیا جائے، اور ایسا اُن لوگوں نے کئی ہفتے تک کیا مگر جب شہر واپس لوٹے تو لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا یعنی اجتماعی شکل اختیار کرنا مزید ہلاکت کا سبب بنا۔

ان سارے واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ایسی ناگہانی صورت حال پیش آ جائے تو انسانی جان کا تحفظ سب سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، وبا یا طاعون کی حالت میں سماجی میل جول نہ رکھنا، گھروں میں محصور ہونا، لوگوں کا منتشر ہونا، گروہ میں جمع نہ ہونا، بھیڑ اکٹھا نہیں کرنا، احتیاط برتنا، اسلامی شیوہ، عقیدہ، طریقہ، صحیح عمل، عین سنت کے مطابق ہے۔

ہمارا مشاہدہ بھی یہی کہتا ہے کہ جب طاعون، مصیبت، آفت، طوفان، بارش، و آندھی، وغیرہ آتی ہے تو ہم اپنے گھروں کا رخ کرتے ہیں اور بچنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں، چرند و پرند بھی ایسا ہی کرتے ہیں جب تک کہ یہ مصیبت سر سے ٹل نہ جائے، اور یہی تالا بندی/لاک ڈاؤن ہے، اور اگر ہم ایسی حالت میں گھروں کو چھوڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کریں تو پریشانی میں پڑ سکتے ہیں اور ہلاکت تک کی نوبت آ سکتی ہے۔

تالا بندی تعلیماتِ نبوی میں سے ہے، پہلے کے زمانے میں طاعون ہی وبا تھی مگر آج کے زمانے میں مختلف قسم کی وبائیں پائی جاتی ہیں اسلئے ہمیں چاہیے کہ حکومت ا ور ڈاکٹر کی طرف سے لیے گئے فیصلے و ہدایات پر عمل کریں، اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو در حققیت ہم سنت نبوی کے عملی پیروکار ہیں۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں