آخری عشرے کی اہمیت وفضیلت

Last Ashra

اللہ رب العزت  ماہ  رمضان المبارک میں بےپناہ نعمتو ں  و رحمتوں کا نزول فرماتا ہے ۔اسی ماہ  کے آخری عشرے میں  امت مسلمہ کو شب قدراور مخصوص عبادتیں عطا کی گئیں ہے جواس سے پہلے کسی اور امت  کویہ شرف حاصل نہ تھی  جو سنّت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اصطلاح میں اسے اعتکاف کہتے ہیں،  احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔

 حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا :  ’’وہ (یعنی معتکف) گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنیوالوں کے مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔ (ابن ماجه)

حضرت علی بن حسین اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔   (بیہقی شعب الایمان)

اعتکاف: اللہ کی عبادت کے لیے مقررہ اوقات میں مسجد میں ٹھہرنے اور  اپنے اوپر مسجد کو لازم کرنے کو اعتکاف کہتے ہیں، یہ فضیلت کے کاموں اور بڑی عبادات میں سے ایک عبادت ہے، اعتکاف ہر وقت سنت ہے اور سب سے افضل رمضان کےآخری عشرہ میں اعتکاف کرنا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف کیا کرتے تھے۔(زاد المعاد)، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس فانی دنیا سے پردہ فرمانے تک رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں” (بخاری)، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔(بخاری)، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔(بخاری)

ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔ (طبرانی،بیہقی) 

 

 اعتکاف کی حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے آدمی دنیا وی لہو ولعب  سے کنارہ کش اختیار  کرکے اللہ کو ناراض کر دینے والے افعال و اعمال سے بچ جاتا ہے  اور رب کی رضاحاصل کرنے کیلئےعبادت وریاضت میں  مشغول ہوجاتا ہے ۔ لہذا ہمیں بھی اعتکاف کے لئے وقت نکال کر اپنے دل کو اللہ کی عبادت کے لیے فارغ کر دے۔

اسی عشرہ میں  ایک  مقدس رات  ہے  جو شب قدر کہلاتی ہے۔

 شب قدر کا معنیٰ و مفہوم:۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قدر کا معنی مرتبہ کے ہیں ‘چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے‘ اس لئے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘ کہا جاتا ہے۔(القرطبی‘ 20: 130)

جو بہت ہی قدر و منزلت اور خیر و برکت اپنے اندر سموئے ہوئے  ہیں۔ اسی رات کو اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں۔ اس کے دونقطے  ہیں جس شخص کی یہ ایک رات عبادت میں گزری  ‘ اس نے تراسی برس چار ماہ کا زمانہ عبادت میں گزار دیا   اور تراسی برس کا زمانہ کم از کم ہے کیونکہ ’’خیر من الف شھر‘‘ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ رب العزت  جتنا زائد اجر عطا فرمانا چاہئے گا‘ عطا فرما دے گا۔ اس اجر کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

اعتکاف کا مقصد:۔

تحرو الیلة القدر فی الوتر‘ من العشر الاواخر من رمضان.

لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح البخاری‘ 1: 270‘ کتاب الصوم‘ رقم حدیث: 1913)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، لیلۃ القدر کو رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو، اور وہ اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں اور آخری رات ہے۔ (ترمذی شریف، باب نمبر 536)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ  اعتکاف کا مقصد تلاشِ لیلۃ القدر ہے،اس لئے ان آخری عشرہ کے  اعتکاف  کوسنّت مؤکدہ قرار دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب تک اللہ تعالی نے اس شب قدر کی تعین سے آگاہ نہیں فرمایا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاش کے لئے پورا رمضان اعتکاف کیا کرتے تھے‘ لیکن جب آگاہ فرما دیا گیا تو وصال تک صرف آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے رہے۔

امتِ محمدی ﷺ کی خصوصیت:۔

لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ان ﷲ وهب لامتی لیلة القدر لم یعطها من کان قبلهم. (الدر المنثور‘ 6: 371)

یہ مقدس رات اللہ تعالیٰ نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی  حاصل نہیں ۔

یہ رات صرف امت ِمحمدیہ ﷺکیلئے ہی کیوں ؟ اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شفقت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غم خواری ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ:

ان رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم اری اعمار الناس قبله او ماشاء ﷲ من ذلک فکانه تقاصر اعمار امته عن ان لا یبلغوا من العمل‘ مثل الذی بلغ غیرهم فی طول العمر‘فاعطاہ لیلة القدر خیر من الف شهر۔.

جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟(پس) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیلۃ القدر عطا فرما دی‘ جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔ (موطا امام مالک‘ 1: 319‘ کتاب الصیام‘باب ماجاء فی لیلة القدر‘ رقم حدیث: 15)

شبِ قدر کو پوشیدہ رکھے جانے کی وجوہات: ۔

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللّٰہ علیہ  فرماتے ہیں ،اللّٰہ  رب العزت نے شب ِقدر کو چند وجوہ کی بناء پر پوشیدہ رکھا ہے۔

  • جس طرح دیگر اَشیاء کو پوشیدہ رکھا،مثلاً اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اپنی رضا کو اطاعتوں  میں  پوشیدہ فرمایا  تاکہ بندے ہر اطاعت میں  رغبت حاصل کریں ۔ اپنے غضب کو گناہوں  میں  پوشیدہ فرمایا تاکہ ہر گناہ سے بچتے رہیں ۔ دعاء کی قبولیت کو دعاؤں  میں  پوشیدہ رکھاتا کہ وہ سب دعاؤں  میں  مبالغہ کریں۔ تو بہ کی قبولیت کوپوشیدہ رکھاتاکہ بندہ توبہ کی تمام اَقسام پر ہمیشگی اختیار کرے اور موت کا وقت پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ خوف کھاتا رہے، اسی طرح شب ِقدر کوبھی پوشیدہ رکھاتا کہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔
  • گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ،’’اگر میں  شبِ قدر کو مُعَیَّن کردیتا اور یہ کہ میں  گناہ پر تیری جرأت کو بھی جانتا ہوں  تواگرکبھی شہوت تجھے اس رات میں  گناہ کے کنارے لا چھوڑتی اور تو گناہ میں مبتلا ہوجاتا تو تیرا اس رات کو جاننے کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی کے ساتھ گناہ کرنے سے زیادہ سخت ہوتا۔ پس اِس وجہ سے میں  نے اسے پوشیدہ رکھا ۔
  • گویا کہ ارشاد فرمایا میں  نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ شرعی احکام کا پابند بندہ اس رات کی طلب میں  محنت کرے اور اس محنت کا ثواب کمائے ۔
  • جب بندے کو شبِ قدر کا یقین حاصل نہ ہوگا تووہ رمضان کی ہر رات میں  اس امید پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں  کوشش کرے گا کہ ہوسکتا ہے کہ یہی رات شب ِقدر ہو۔( تفسیر کبیر ،  القدر ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۱۱  /  ۲۲۹-۲۳۰)

چنانچہ اسی طرح بیشمار مصلحت کے پیشِ نظر لیلۃ القدر کو بھی پوشیدہ رکھا گیا ہے، تاکہ اللہ کے نیک بندے اس کی تلاش میں سارا سال ہی لگے رہیں اور اس طرح وہ نیکیاں کمانے میں کوشاں رہیں۔

خلاصہ:۔
قرآنی آیات واحادیث کی روشنی میں ہم سب کوعلم ہو گیا کہ شب قدر کی اہمیت اور اس کی برکت و عظمت کا مقام کتنا بلند و بالا ہے۔ اس لئے ہم سب مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس عظیم رات کو غفلت میں نہ کھوئیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، رو رو کر دعائیں کریں۔

حدیث قدسی ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، مجھے گنہگاروں کے رونے کی آواز تسبیح کہنے والوں کی آواز سے زیادہ پسند ہے۔ علامہ  روح البیان فرماتے ہیں کہ دراصل رونے کی آواز کو اللہ تعالیٰ  اس لئے پسند فرماتا ہے کہ تسبیح پڑھنے والوں کے کمال کا اپنا اظہار ہے اور گنہگار کے رونے میں رب العالمین کی غفار کا اظہار ہے۔ (روح البیان ج15 ص489 )

اللہ رب العزت ہم سبھو ں کوعمل صالح اور رمضان المبارک کے ایک ایک لمحہ کی قدرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں