ارطغرل غازی : دنیا بھر میں دھوم مچا دینے والا ڈرامہ

Ertugrul Ghazi

ارطغرل۔۔۔ یہ وہ نام ہے جوآج عوام وخواص کی زبان پر ہے۔ اس کی شہرت کی وجہ وہ ترکی ڈرامہ ہے جس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ اس ڈرامہ کو دنیا کی مختلف زبانوں میں ڈب کرکے نشر کیا گیا اور اب بھی نشر کیا جارہا ہے۔ فی الحال یہ بر صغیر ہند و پاک کے خاص طور پر مسلم نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن اور جنون بنا ہوا ہے۔ ارطغرل عزم و ہمت اور نگہہ کی بلندی،غیرت ایمانی،قوم کی محبت اور اس کیلئے کچھ کر گذرنے کا جذبہ، بے سروسامانی کے باوجود حق وانصاف کیلئے ڈٹ جانے اور سروجان کی بازی تک لگادینے کے جذبے کی علامت ہے۔ امت مسلمہ بے قدری، بدحالی، زوال، انتشار، مایوسی ومحرومی کے جس دور سے گذر رہی ہے ویسے مشکل اور حوصلہ شکن حالات میں یہ نام اور کردار ڈھارس بندھانے والا اور عزم و ہمت کی جوت جگانے والا ہے۔ اس کردار کے کارناموں سے یہ حوصلہ ملتا ہے کہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود خلوص نیت،عزم و حوصلہ، مناسب منصوبہ بندی، اتحاد و یکجہتی اور مقصد کے حصول کیلئے کچھ کر گذرنے کاجذبہ ہو توآج بھی کامیابی، کامرانی اور سربلندی قدم چوم سکتی ہے اور امت مسلمہ اقوام عالم میں سرخرو ہوسکتی ہے اور ناقدری، بے وزنی اور بے وقعتی کے دلدل سے نکل سکتی ہے۔ یہ خواہش، جذبہ اور چنگاری تو ہر کلمہ گو کے اندر خوابیدہ ہے۔ ارطغرل نے اسی کو جلا دینے اور ابھارنے کا کام کیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ہر مسلمان کے دل کی آواز اور اس کی آرزووں و امنگوں کا ترجمان بن گیا ہے۔

تیرہویں صدی عیسوی میں جب مسلم دنیا انتشار کا شکار تھی، خلافت عباسیہ کمزور پڑچکی تھی، منگول پے در پے حملوں سے مسلم دنیا کو تاراج کررہے تھے، مسلم دنیا کے خلاف عیسائی بازنطینی سلطنت کی ریشہ دوانیاں جاری تھیں، اس دور میں قائی قبیلہ جو دیگر ترک قبیلوں کی طرح ایک خانہ بدوش قبیلہ تھا پہلے حلب اور پھر سوغوت میں جاکرآباد ہوا۔ اس قبیلے کے جس سردار کو پہلے شہرت ملی وہ سلیمان شاہ تھے۔ انہی کے ایک بیٹے ارطغرل نے صلیبیوں کی سازشوں اور منگولوں کے حملوں کے خلاف نہ صرف ترک قبیلوں کو ایک لڑی میں پرویا بلکہ ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر عظیم عثمانی سلطنت کے نام پر تقریبا سات سو سال تک دنیا کے نقشہ پر قائم رہی اور جس نے عرب وعجم کو پھر سے خلافت کی وحدت تلے جمع کردیا اور جس نے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے تین بر اعظموں پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ یہ عظیم عثمانی سلطنت جب تک مضبوط رہی مسلمان دنیا کی سیادت وقیادت پر فائز رہے۔ یہ ڈرامہ اسی ارطغرل کی زندگی پر بنایا گیا ہے۔

راقم الحروف نے ابھی تک اس ڈرامہ کی چند کڑیاں ہی دیکھی ہیں تاہم متعدد ذرائع سے اس بارے میں جو معلومات ہوسکی ہیں اس کے مطابق ترک فلمساز مہمت بوزدیگ کا بنایا ہوا یہ سیریل دیریلیس ارطغرل ایک طلسم کدہ ہے جو ماضی کو حال سے جوڑتا ہے اور مستقبل کی تعمیر کرتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ماضی اور حال ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔  اس سیریل کے پانچ سیزن ہیں۔  پہلے سیزن سے لے کر پانچویں سیزن تک کی کہانی پلاٹ، کردار، مکالمے اور پروڈکشن ہر اعتبار سے جاندار ہیں۔ ان کرداروں میں آپ کو آج کی مسلم دنیا کے بہت سے کردار واضح طور پر دکھائی دیں گے۔ ان کرداروں کو نبھانے والے اداکاروں نے بھی اداکاری کے وہ جوہر دکھائے ہیں کہ ناظر عش عش کر اٹھتا ہے۔ خاص طور پر ارطغرل اور حلیمہ سلطان کا کردار بہت ہی موثر اور جاندار ہے۔ جہاں اس ڈرامہ کے اچھے کرداروں میں ہمیں اپنے بہادروں اور عظیم لوگوں کا عکس نظر آتا ہے، وہیں اس کے منفی کرداروں میں آج کے حکمرانوں،سرکاری افسروں کا عکس بھی اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔

اس ڈرامہ میں دکھائی گئی تہذیب، قدیم اسلامی ترک تہذیب ہے،خواتین کا معاشرتی کردار بہت جاندار اور قدرتی ہے۔ ڈرامہ میں پیش کی گئی تہذییب خالص اسلامی تہذیب نہیں ہے، اس میں ترک تہذیب کے گہرے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ ارطغرل میں اسلامی تہذیب کے اوصاف جیسے خلوص، مشکل مراحل میں اللہ کی طرف رجوع، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت و عقیدت، سخت سے سخت حالات میں وعدے کی پاسداری،مہمانوں کی بقدر مقدور فراخ دلی سے مہمان نوازی، بڑوں کا احترام، چھوٹوں کے ساتھ شفقت،علماءوبزرگان دین کا احترام، اخلاق کی عمدگی وبلندی، اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک، ایمانی غیرت وحمیت وغیرہ کو دکھایا گیا ہے۔

اس ڈرامہ میں عظیم عثمانی سلطنت کے ابتدائی دور کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس میں ترکوں کے اجداد کی تاریخ ہے بلکہ اس نے موجودہ دور میں بھی ترکوں کو اپنے ماضی سے جوڑنے کا فرض اس طرح انجام دیا کہ جب ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف بغاوت کی کوشش ہوئی تو ارطغرل کی فکر سے متاثر پوری نوجوان نسل اس سے مزاحم ہوگئی۔

جہاں تک اس ڈرامہ کے ہیرو ارطغرل کے سوانحی کوائف کا تعلق ہے تو یہ واضح حقیقت ہے کہ تاریخوں کتابوں میں منظم طریقے سے ان کی زندگی کے احوال اور سرگرمیوں سے متعلق پختہ معلومات و تفصیلات نہیں ملتیں، تاہم مختلف حوالوں سے ارطغرل کی حیات و کارناموں کے بارے میں جستہ جستہ جو معلومات حاصل ہوسکی ہیں اس مضمون میں مختصراً ان پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔

آن لائن آزاد دائرة المعارف، وکی پیڈیا کے مطابق ارطغرل کے بیٹے عثمان اول کے ڈھالے ہوئے سکوں سے تاریخی طور پر ان کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان سکوں میں عثمان اول نے اپنے والد کا نام ارطغرل نقش کروایا تھا۔ مورخین کو ان کی حالات زندگی کی معلومات کیلئے ان لوک کہانیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو ان کی وفات کے سو سال بعد سلطنت عثمانیہ میں مقبول ہوئیں۔ ان کہانیوں پر بھی کئی طرح کے شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

Ertugul Ghaziارطغرل (Ertugrul) ترکی زبان کا لفظ ہے اور دو الفاظ ’ار‘ اور ’طغرل‘ سے مل کر بنا ہے۔ ’ار‘ کے معنی آدمی، سپاہی یا ہیرو کے ہیں، جبکہ ’طغرل‘ کے معنی عقاب پرندے کے آتے ہیں جو کہ ایک مضبوط شکاری پرندہ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

امیر غازی ارطغرل بن سلیمان شاہ ترک قائی قبیلہ کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ولادت کا زمانہ 1119 عیسوی کے آس پاس کا ہے جبکہ سنہ وفات 1281 عیسوی بتائی جاتی ہے۔ ان کا مدفن اناطولیہ کے شہر سرغوت میں واقع ہے۔ غیر معتبر تاریخی حوالوں کے مطابق ارطغرل کا تعلق غز ترک قبائل کی شاخ قائی قبیلہ سے تھا اور ان کا خاندان بیگ یعنی سردار کہلاتا تھا۔ یہ قبیلہ عقیدتاً   اہل سنت والجماعت سے منسلک اور مسلکاً حنفی تھا۔

 

ارطغرل اپنے والد کی ہدایت پر اپنے چند رفقاءکے ساتھ حلب کے العزیز سلطان  صلاح الدین ایوّبی کے پوتے   کے پاس گئے اور ان سے اپنے  قبیلہ کے لئے زمین کا مطالبہ کیا۔  چنانچہ انہوں نے سرغوت کی زمیں ارطغرل کے حوالے کردی جو اس زمانے میں بازنطینی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا۔ جلد ہی ارطغرل کے تعالقات ایوّبی اور سلجوقی  سے بہتر ہو گئے ۔ سلجوقی سلطان علاءالدین نے ارطغرل کی خدمات سے متاثر ہوکر سرغوت کے نواح میں واقع دوسرے شہر بھی بطور جاگیر عطا کئے اور سردار اعلیٰ کا عہدہ بھی دیا۔ اس کے بعد آس پاس کے تمام ترک قبائل ان کے ماتحت آگئے۔آگے چل کر اس سرزمین پر کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو سلطنت عثمانیہ کے قیام کی بنیاد بنے۔

اسلام کی سربلندی کی خاطر ارطغرل اور دیگر عثمانی سلاطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عام طور پر ان کے ناموں کے ساتھ غازی کا لقب لگایا جاتاہے۔ارطغرل غازی پوری عمر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے۔ ان کی زندگی کے آخری ایام میں سلجوقی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور منگولوں نے پورے اناطولیہ پر قبضہ کرلیا تھا جو ارطغرل کیلئے سخت تشویش کا باعث تھا۔ ان کی آرزو تھی کہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آئے۔ چنانچہ ارطغرل کے سب سے چھوٹے بیٹے غازی عثمان اول نے اس خواب کی تکمیل کی اور ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی۔

برطانوی مورخ کیرولین فنکل لکھتی ہیں کہ عثمانیوں کے مطابق ان کی سلطنت کا آغاز ایک خواب سے ہوا تھا جو عثمان نے ایک بزرگ درویش کے گھر میں قیام کے دوران دیکھا تھا۔ فنکل کے مطابق اس خواب کی کہانی کے حق میں دستاویزی ثبوت بھی تاریخ میں ملتا ہے۔

مورخ لیسلی پی پیرس کے مطابق عثمان نے اپنی ابتدائی کامیابیوں کے بعد ایک خواب میں دیکھا تھا کہ ایک درویش شیخ ادیبالی کے سینے سے ایک چاند نمودار ہوتا ہے اور اس کے سینے میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پیٹ سے ایک بہت بڑا درخت نکلتا ہے جس کا سایہ پوری دنیا پر چھا جاتا ہے۔ اس درخت کی شاخوں کے نیچے چشمے بہتے ہیں جن سے لوگ پانی پیتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں۔

عثمان نے جب شیخ ادیبالی سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ خدا نے عثمان اور اس کی اولاد کو دنیا کی حکمرانی کیلئے چن لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سینے سے نکل کر عثمان کے سینے مین داخل ہونے والا چاند ان کی بیٹی ہے جو بعد میں عثمان کی بیوی بن گئیں۔

اس خواب نے عثمان کیلئے تحریک کا کام کیا اور وہ سمجھنے لگے کہ اب انہیں تائید الٰہی حاصل ہوگئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آس پاس کی سلجوقی، ترکمان ریاستوں اور بالآخر بازنطینیوں کو پے در پے شکست دے کر اناطولیہ کے بڑے حصے پر اپنا پرچم لہرادیا۔

عثمان کے جانشینوں نے جلد ہی اپنی نظریں یورپ پر جمادیں اور 1326 میں یونان کے دو بڑے شہروں تھیسالونیکی اور 1389 میں سربیا پر قابض ہوگئے، لیکن ان کی تاریخی کامیابی 1453 میں بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ کی فتح تھی جس پر گذشتہ سات سو برسوں سے مسلمان قبضہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔محمد فاتح نے اب اپنا دارالحکومت قسطنطنیہ منتقل کرکے قیصر روم کا خطاب اختیار کیا۔

عثمانیوں نے مہم جوئی کا یہ سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھا اور 1516 اور 1517 میں مصر کے مملوکوں کو شکست دے کر مصر کے علاوہ موجودہ عراق، شام، فلسطین، اردن اور سب سے بڑھ کر حجاز پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت کا رقبہ دوگنا کرلیا۔ عام تصور کے مطابق 1517 سے ہی عثمانی خلافت کا آغاز ہوا۔سلیم اول کو پہلا خلیفہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ ان سے پہلے عثمانی سلطان یا پادشاہ کہلاتے تھے۔ سلمان عالیشان کے دور میں سلطنت فوجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی عروج پر پہنچ گئی۔ سلمان نے بلغراد اور ہنگری بھی فتح کرلئے۔

یہی وہ زمانہ تھا جب یورپ کروٹیں لے رہا تھا۔ یورپ میں یہ ایجادات کا دور تھا۔ اسپین، پرتگال، نیدرلینڈ اور برطانوی بحری بیڑے دنیا بھر کے سمندر کھنگال رہے تھے۔ براعظم امریکہ کی دریافت اور اس پر قبضے سے یورپ کو باقی دنیا پر برتری حاصل ہوگئی اور انہوں نے جگہ جگہ اپنی نوآبادیاں قائم کرنا شروع کردیں۔

16ویں اور 17ویں صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یورپ نے پو ری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا اور یہی چیز رفتہ رفتہ ان کے عروج اور اقوام عالم پر ان کے دبدبے کا باعث بنی لیکن اسی دور میں مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کوئی خاص پیش رفت نہیں کی بلکہ متعدد مواقع پر یورپی ایجادات کی مخافت بھی کی۔ چنانچہ 1439 عیسوی میں چھاپہ خانہ کی جس ایجاد کی وجہ سے یورپ میں علمی اور فکری انقلاب برپا ہوگیا، اس سے مسلمان محروم رہے۔ اگر عثمانی بھی پرنٹنگ پریس سے استفادہ کرتے تو شاید آج دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی، لیکن سلطان فاتح کے بیٹے یزید دوم نے 1483 عیسوی میں عربی رسم الخط میں کتابیں چھاپنے والوں کیلئے موت کی سزا مقرر کردی۔ وجہ یہ تھی کہ علماء نے چھاپہ خانہ کو انگریزوں کی ایجاد قرار دے کر فتوی دیا تھا کہ اس فرنگی ایجاد پر قرآن یا عربی رسم الخط میں کتابیں چھاپنا مذہب کے خلاف ہے۔

علماء کا یہ فتویٰ مسلمانوں کی تاریخ میں بڑا بھاری پڑا۔ تعلیم کی نشر و اشاعت کی وجہ سے یورپ آگے بڑھتا چلا گیا۔عثمانی سلطنت سال درسال سکڑتی چلی گئی، حتی کے پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے اسے اناطولیہ کے علاوہ تقریباً تمام علاقے چھین لئے۔

بالآخر 1922 میں کمال اتاترک کی قیادت میں قوم پرست طاقتوں نے ملک کا اقتدار سنبھال کر خلیفہ عبدالحمید دوم کو معزول اور خلافت کے منصب کو ختم کردیا اور اس طرح 623 برس تک شان وشوکت سے راج کرنے والی اس عظیم سلطنت کا سورج غروب ہوگیا۔عثمانی سلطنت کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 37 سلطان تخت نشیں ہوئے جو ایک مورخ کے مطابق کسی معجزے سے کم نہیں۔

اس خلافت کے خاتمے کی ٹیس آج بھی مسلم امت کے سینے میں اٹھتی رہتی ہے اور ادبار و بے وقعتی کے اس دور میں شاندار ماضی سے متعلق کوئی بھی چیز اسے سحر زدہ کردیتی ہے۔ چونکہ ارطغرل ڈرامے کا تعلق ایسے ہی شاندار ماضی سے ہے، جس سے امید اور روشن مستقبل کی کرنیں پھوٹتی ہوئی نظر آتی ہیں، اسی لئے نئی صبح کی متلاشی مسلم قوم اور خاص طور پر اس کے نوجواں اس ڈرامہ کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں۔

 


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں