تالا بندی کے اثرات

Covid-19 Impact

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار وہاں کی معاشی ترقی پر منحصر ہوتا ہے، معاشی نظام بہتر ہے تو اس ملک وقوم کی حالت بھی بہتر ہوگی، کیونکہ معاشی نظام کسی بھی ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

معاشی نظام بہتر نہ ہو نے کا مطلب ہے کہ زندگی کا ہر شعبہ  تنزلی کا شکار ہے، کورونا تالا بندی جس نے دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کو کمزور و ڈھیر کر کے رکھ دیا ہے، ترقی یافتہ ممالک کے حالات  بدتر ہو گئے، ترقی پذیر اور غریب ملکوں کی حالت نازک و تشویشناک دور میں پہنچ گئ۔  تالا بندی سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوئے جس سے انسانی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، سماجی، ملکی و قومی تانے بانے پوری طرح بکھر کر رہ گئے، کچھ ایک کو چھوڑ کر زندگی کے ہر شعبے میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ماحولیاتی آلودگیوں سے فضا پاک و صاف رہی، جس نے ایک مثبت پیغام دیا ہم انسانوں کو کہ کسی بھی قسم کی آلودگی پر قابو پایا جاسکتا ہے، مگر وہیں دوسری جانب تالا بندی کے اثرات کی بات کی جائے تو اس نے سیاسی، سماجی، معاشی، مذہبی، اخلاقی، طبی، تنظیمی، رفاہی، تعلیمی و تدریسی طور پر بہت ہی برے و گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کے اثرات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ انسانی زندگیاں سسک رہی ہیں، اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں، سماجی زندگیاں خطرے میں ہیں، تعلیمی نظام ٹھپ ہو چکے ہیں، درس گاہوں پر تالے لگے ہوئے ہیں، انسان نفسیاتی مریض کے شکار ہو رہے ہیں، تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، رفاہی کام بند پڑے ہوئے ہیں، سیاسی اتھل پتھل جاری و ساری ہیں، ترقی کی رفتار کچھوے کی چال کو مات دے چکی ہے، بے روزگاری اپنے عروج  پر ہے، مستقبل  چہار سو سے تاریک ہے۔

 

اب ہم ایک ایک کر کے تالا  بندی سے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں، اسکا مختصراً جائزہ  لیں گے۔

سیاسی اثر:

جہاں جہاں بھی تالا بندی کا اعلان کیا گیا اسکا اثر وہاں کی سیاست پر بھی دیکھا گیا، سیاسی سرگرمیاں محدود ہو گئیں یا پھر اس کی نوعیت یکسر بدل گئی، سیاسی پارٹیاں، سیاسی رہنما، میدان میں آنے سے کترانے لگے، کسی کو اجازت بھی نہ تھی کہ سڑکوں پر جلسےوجلوس کرے، ہر کوئی اپنی جان بچانے میں لگ گیا، عوام کی فکر جاتی رہی، حکومتیں زیادہ تر معاملات میں مؤ ثر کارروائیاں کرنے میں ناکام نظر آئیں جسکی وجہ سے خاص طور پر سماج کے غریب اور کمزور لوگوں کا حال بے حال ہو گیا، ہمارے ملک کی حالت بھی اس سے زیادہ مختلف نظر نہیں آئی۔ غریبوں اور مزدوروں کو کن کن پریشانیوں اور مصیبتوں سے گزرنا پڑا وہ سب کے سامنے ظاہرہے۔

ملک تھم سا گیا، ترقیاتی کام تقریباً ٹھپ ہو گئے، ترقیاتی کام تو عوام کے لیے بند رہے مگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اندرون خانہ چپلقش جاری رہے، کچھ صوبائی حکومتوں نے تالا بندی میں گھرے لوگوں کی خبرگیری کی تو کچھ نے ان کو اپنے حال پربے یارو مددگار چھوڑ دیا، سیاسی طاقت کا زور ہی تھا کہ عوام ہزاروں کلومیٹر بھوک و پیاس سے نڈھال ہو کر پیدل چلتی رہی مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

سماجی اثر:

تالا بندی کا اثر سماج کے ہر طبقے پر پڑا، خواہ وہ سماج کا اعلیٰ طبقہ ہی کیوں نہ ہو، متوسطہ ہویا ادنیٰ ہر طبقہ کو اسے بھگتنا ہے، سماج کے اعلیٰ طبقہ پر اسکا کوئی خاص اثر تو نہیں رہا، مگر دوسرے اعتبار سے وہ بھی اسکی زد میں آئے، متوسط طبقہ اور ادنیٰ پر اُسکا گہرا اثر پڑا۔

جو ترقی یافتہ ممالک ہیں جیسے امریکہ، فرانس، انگلینڈ، جرمنی او ر اٹلی وغیرہ وہ بھی سماج کے کمزور طبقہ کو خوش رکھنے میں ناکام نظر آئے، اور ترقی پذیر ممالک کا حال تو اس سے برا ہونا طےتھاہی کہ سماج میں اسکا اثر کچھ زیادہ ہی بھیانک دیکھنے کو ملا، سارا معاشرہ مقفل ہو کر رہ گیا، حکومت کی لاپروائی سے کمزور لوگ بے یارو مددگار پڑے رہے، ان کا کام وکاج بند ہو گیا، کھانے پینے کی دقّت ہونے لگی، اس وبا کے ساتھ ساتھ بھوک پیاس سے مرنے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی، مگر وہیں دوسری طرف سماج کے صاحب ثروت، نیک دل انسان، NGO، اورسماجی کارکنان نے ضرورت مند لوگوں کی امداد فرما کر انسانی و اخلاقی فریضہ کو انجام دیا۔

سماجی زندگی پوری طرح ٹھپ پڑ گئی: جہاں سماج کی تشکیل لوگوں سے ہوتی تھی، سب ایک دوسرے کے کام آتے تھے، لیکن اس وباکی وجہ سے ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا، آنا جانا، چلنا پھرنا، سب بند ہو گیا، رشتےداروں سے دوری ہو گئی، نزدیکیاں دوریوں میں بدل گئی، شادی بیاہ جیسے مقدس رشتے پر روک لگ گئی، سماج کا تانا بانا بکھر گیا، کوئی خبر گیری و عیادت کرنے والا نہ رہا، ایک دوسرے سے دوری بنانے میں ہی عافیت سمجھی۔

اس وبا میں سب سے عجیب انسانی روح کو تڑپانے والی اور تکلیف دینے والی بات یہ رہی کہ موت واقع ہو جانے پر سماج احترام، عزت و اکرام کے ساتھ دفن/نزر آتش نہیں کر سکتے جس طرح وبا کے پھوٹ پڑنے سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ سماج کے لوگ تو دور کی بات اس کے اعزه و اقارب تک کو اجازت نہیں کہ وہ اسے نہلائے دھلائے اور پھر قبرستان کا رخ کرےیا ہر مذہب والے اپنے اپنے اعتبار سے مذہبی رسومات ادا کر ے۔ انسانی تاریخ میں شاید ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا ہو کہ باپ بیٹے سے، بیٹا باپ سے، ماں بیٹی سے، بیٹی ماں سے دور رہی، بس اسے کسی طرح سپرد خاک کیا گیا مسلمان ہونے کی صورت میں، نذرِ آتش کیا گیا ہندو مت کو ماننے کی صورت میں، خبریں تو یہاں تک آئی کہ بہت سارے قبرستان میں کورونا سے فوت پانے والے کو دفنانے سے منع کیا گیا۔

 

تالا بندی کا اثر سماج کے ہر طبقہ، عمر، و جنس پر پڑا، مگر ان میں بھی خاص کر ضعیفوں، بچوں اور عورتوں پر اسکے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے، تالا بندی کی وجہ سے ایک طرف آرام رہا کہ گھر پر رہنے کو ملا جو شاید پہلے کبھی اتنا زیادہ موقع نہیں ملا تھا، آفس جانے سے چھٹکارا ملا، دوڑ دھوپ سے آزادی ملی، نیند بھرپور نصیب ہوئی، مگر دوسری طرف اسکے بہت برے اثرات مرتّب ہوئے عورتیں، بچے اور ضعیفوں پر، عورتیں جو پہلے سے ہی زیادہ قید تھیں اپنے گھروں میں اس میں اضافہ ہوا، جسکی وجہ سے صحت پر برا اثر پڑا، گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا، جنسی تشدد میں بڑھوتری ہوئی، جسمانی و ذہنی اذیت میں اضافہ ہوا، تناؤ کا شکار ہوئیں، قومی تنظیم نسواں(NWC) کے مطابق تالا بندی کے دوران جنسی تشدد میں دوگنا اضافہ ہوا، تالا بندی کے دوران ہمہ وقت ساتھ رہنے سے شوہر اور بیوی کے درمیان کہا سنی، جھگڑے اور نا چاقی بڑھی، معاملہ مار پیٹ اور جسمانی و ذہنی اذیت رسائی تک جا پہنچا، گھریلو خادماؤں کے گھر پر نہیں آنے سے خود ہی گھر کے سارے کام انجام دینے پڑے، تھکان محسوس کرنے، امور خانہ داری کا بار بڑھنے سے ازدواجی زندگی میں دراڑیں پیدا ہوئیں۔

 

گھر میں میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہ ہونے، دن رات جھگڑے ہونے، تکرار بڑھنے، کہا سنی ہونے، گالی گلوج دینے سے بچوں کے دماغ پر اسکا برا اور منفی اثر پڑا، بچوں کی صحیح تربیت میں کجی ثابت ہوئی، ذہنی و دماغی نشو و نما پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، گھر میں مقفل رہنے اور گھر سے باہر نہ نکلنے سے صحت پر برا اثر پڑا، گھر پر رہتے رہتے اوب گئے اور اچھی سوچ کے بجائے بری سوچ کے شکار ہونے لگے، سیر و تفریح جو صحت و تندرستی کو برقرار رکھنے کے لیے اشد ضروری ہے پر پابندی لگ گئی۔

ضعیفی خود ایک مرض ہے اوپر سے تالا بندی دوسرا جسکا وہ شکار ہوئے، ضعیفی کی حالت میں تازہ ہوا، تازہ اور مقوی غذا کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور اسکی دستیابی میں کمی پائی گئی، اس عمر میں وہ کئی بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں، اسکا بر وقت علاج چاہیے ہوتا ہے، تالا بندی کی وجہ سے علاج و معالجہ صحیح ڈھنگ سے نہیں ہوئی، کمی رہی، گھر میں رہ کر چڑچراہٹ کا شکار ہوئے اور آخر کار موت کے دہانے پہنچے، اسطرح ہم دیکھتے ہیں کہ تالا بندی کے گہرے اثرات سماجی زندگی پر پڑے۔

 

معاشی/اقتصادی اثر:

 تالا بندی کے سبب سماج، ملک، تنظیم، ادارے، سب معاشی بد حالی کا شکار ہوئے، جس نے سماج کے کمزور طبقے کو حاشیہ پر لا کھڑا کیا، تالا بندی کی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشااضافہ ہوا، روزگار کی شرح پہلے سے ہی نچلے پائیدان پر چل رہی تھی اور مزید اسمیں اضافہ ہوا۔ معاشی ڈھانچہ ہی کسی سماج، ملک، ادارہ، تنظیم کی ترقی کا اصل بنیاد ہوتی ہے جو تالا بندی کی وجہ سے ڈھ گئی۔ لوگوں کی نوکریاں جاتی رہیں، مزدوروں کی مزدوری جاتی رہی، فیکٹری میں کام کرنے والوں کے کام بند ہو گئے، تعمیراتی کام میں لگے مزدور کام نہ ہونے کی وجہ گھروں میں قید ہو گئے، فٹ پاتھ پر ریڑھی اور ٹھیلہ لگانے والوں کو اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھونا پڑا، روز کام کرنے اور روز کھانے والوں کی حالت غیر سے غیر ہو گئی، سارے تجارتی مراکز ماتم کده میں بدل گئے، نا کوئی خریدنے والا نہ کوئی بیچنے والا۔

کسی بھی ملک کی قوت، طاقت، و اثر اسکے اقتصادی حالت سے لگائی جاتی ہے جو اس تالا بندی نے بگاڑ کر رکھ دیا، ایسا نہیں کہ اسکا اثرات صرف ہندوستان یا کچھ ہی ملکوں پر مرتب ہوئے، بلکہ ہر ملک کے حالات کم و بیش ایک جیسے ہی رہے۔ شرح نمو، نفی کی حالت میں چلی گئی اور کیوں نہ ہو جب ملکی پیداوار ٹھہر سی گئی، بہت حد تک آمد و رفت چوپٹ پڑ گیا، پوری دنیا ایسی ٹھہری جیسے گہری سانس لے رہی ہو۔

 

تالا بندی نے ملک کے معیشت پر ایسی ضرب لگائی کہ دوڑنا تو دور، رینگنے اور چلنے میں بھی وقت درکار ہے۔ بیشتر ممالک مختلف النوع مسائل سے دوچار ہیں۔ جیسے صحت، معاش، روزگار، اور آسمان چھوتی مہنگائی وغیرہ سے۔ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک ( اپریل 2020 ) کے مطابق گلوبل ترقی کی شرح نفی %3۔ تک جا پہنچے گی اور یہ گراوٹ %6.3 سے آئی ہے جو جنوری میں تھی، یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کی تالا بندی سے great recession کا دور شروع ہوا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اگلے چھ ماہ میں اس پر قابو نہ پایا گیا تو اسکا اثر سال 2021 میں بھی برا ہی دیکھنے کو ملے گا، جسکے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیں گے، اور اگر اگلے چھ ماہ میں اس پر قابو پا لیا گیا تو ایسی امید کی جاتی کہ 2021 میں شرح ترقی %5.8 تک پہنچ جائے، تالا بندی نے بڑی بڑی معیشت والے ملک جیسے امریکہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، جاپان، چین سب کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے، ورلڈ اکانامک کے مطابق ہی امریکہ کی شرح ترقی (growth rate) 2019 میں %2.3 تھی جو 2020میں%5.9۔ ہے، چین کی شرح ترقی %6.1 تھی 2019 میں جو اب 1.2 فیصد ہو گئی، ہندوستان کے شرح ترقی کی رفتار 2019 میں 4.2 فیصد تھی جو اب 2020 میں.1.2% فیصد پر پہنچ گئی، اور سعودی عربیہ کی شرح.0.3% فیصد تھی جو اب گھٹ کر نفی میں 2.3% فیصد ہوگئی ہے۔ تالا بندی کے دوران ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ دنیا کی عظیم معیشتیں بھی نفی میں جا پہنچے۔

چھوٹے موٹےاور عام کاروبار(small scale industries) بند ہونے کے دہانے پر جا پہنچے، زرعی پیداوار بھی اس سے بہتر نہیں رہا، جو سبزیاں اگائی گئیں انہیں بازار تک پورے طور پر نہیں پہنچایا جاسکا، ایسا پڑھنے اور سننے میں آیا کہ کسانوں نے سبزیوں اور پھلوں کو مفت میں تقسیم کردیا یا سڑکوں پر پھینک دیا، بازار تک سبزیوں کو لے جانے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہیں دوسری طرف عوام کے پاس پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے خریدار بھی بھرپور نہیں رہے، بیشتر مزدور اپنے اپنے گاؤں چلے گئے جس کی بنا پر بروقت فصلوں کی کٹائی، سنچائی، بوائی نہیں ہو پائی، اور اس طرح سے زرعی معیشت کا بھی برا حال رہا۔

ملک کی آمدنی کا ایک ذریعہ سیر و سیاحت بھی ہے، تالا بندی ہونے سے لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک جانا بند ہو گیا، سفر کے ذرائع ریل، بس، کار، ہوائی جہاز سب دھول چاٹتے رہےاسٹیشنوں اور اڈوں پر، آثارِ قدیمہ کی عمارتیں ٹکٹکی لگاے نظروں سے داخلہ دروازے کی طرف نظر گڑائے تاکتی رہی مگر کوئی آدم زاد دور دور تک دکھائی نہیں دیا۔

سیر و تفریح کئی ملکوں میں صنعت کا درجہ رکھتی ہے، فلم بھی تفریح کا ایک حصہ ہے، فلم صنعت اچھی خاصی رقم حاصل کرکے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی حصہ داری رکھتا ہے، فلم شائقین فلم دیکھنے سے محروم رہے، اور یہ صنعت کمائی نہ کرنے کی صورت میں معیشت کی کمزور ڈور میں شریک رہا۔

 

مذہبی اثر :

تالا بندی سے عبادت کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی آئی، تالا بندی ہونے کی صورت میں تمام مذہبی مراکز، عبادت گاہیں، مساجد، منادر، گرودوارے، کلیساؤں، وغیرہ بند کر دیے گئے، عبادت کیلئے مسجد یا مندر جانے سے رکنا پڑا، نماز جیسی مقدس اور نہایت ہی اہم عبادت کو گھروں میں ہی ادا کرتے رہے، مسلمان نماز ادا کرنے کے لئے دن میں پانچ بار جو مسجد کا رخ کرتا تھا وہ اس درمیان نہیں رہا، جمعہ کو ہفتہ کی عید کہی جاتی ہے اس پر بھی روک لگ گئی، تالا بندی کے دوران ہی رمضان المقدس کا مہینہ آ گیا، جو مسلمان عالم کے لیے سب سے اہم اور ا فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بھی مساجد ویران رہا، اس ماہ میں مسجدیں کھچا کھچ بھری رہتی ہیں، تل رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، جو شخص سال کے کسی دوسرے مہینہ میں نماز نہیں ادا کرتے وہ بھی اس مہینہ میں ضرور بالضرور ادا کرتے ہیں۔ نماز پنجگانہ، نماز تراویح کا بڑا ہی تُزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں، مسجد سے اپنے کو جوڑے رکھتے ہیں، روزہ کا اہتمام کرتے ہیں، آخری عشرہ میں اعتکاف و شب قدر کا اہتمام کرتے ہیں، شب قدر میں مسجدوں میں جگ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، یہ ساری عبادات تالا بندی کی وجہ سے سبھوں کو اپنے اپنے گھروں میں کرنا پڑا، مسلمانوں کیلئے اس سے بڑی کوئی قربانی نہیں کہ اُسے نماز پنجگانہ گھر پر اور نمازِ جمعہ کا بدل اختیار کرنا پڑا، ا س سے بڑی تکلیف دہ چیز اور کیا ہوگی کہ تالا بندی کے سبب حج و عمرہ جیسے اہم فریضہ و عبادت سے دست بردار ہونا پڑا (علاقائی لوگوں کو چھوڑ کر)۔

مندروں میں پوجا پاٹ کرنے کے لیے جانے سے رکنا پڑا، منادر میں تالے پڑ گئے، پوجا ارچنا کیلئے خاص کر جو دو وقتوں، صبح اور شام میں مندروں میں بھیڑ ہوا کرتی تھی نظر نہیں آیا، بنارس جس کی صبح اس لیے مشہور ہے کہ صبح میں شنکھ کی آواز اور پوجا پاٹ کرنے والوں کا تانتا لگ جاتا ہےوقتی طور پر بند سناٹے میں بدل گئے، بڑے بڑے مندرجو کبھی بند نہیں ہوتے تھے سالوں بھر، جہاں دن و رات قطار میں لوگ نظر آتے تھے، منادر لوگوں کے جمع ہونے کی للک لیے ہوئے نظر آئے، کبھی مندروں میں، اور اسکےآس پاس جو چہل پہل، قطار در قطار لوگ دیکھنے کو ملتے تھے وہاں خاموشی ہی خاموشی نظر آئی۔ پوجا کرنے، مرادیں مانگنے، بھگوان سے منت و سماجت کرنے، چڑھاوا چڑھانے کے لئے دروازه کھلا رہتا تھا جو کہ آج دروازه بند ملا، پوجا صرف دل میں کرنے کو رہ گیا۔

اسی طرح چرچ جس میں خاص کر اتوار کو بھیڑ دیکھنے کو ملتی تھی عبادت کرنے کے لئے وہ سب جاتا رہا، تالا بندی سے عبادت کے ساتھ ساتھ شادی بیاه پر بھی اثر پڑا۔

گرودواره جہاں دن بھر لوگوں کا تانتا لگا رہتا تھا وہاں سناٹا پسرا رہا، گرووانی جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی، مجبور کر دیتی تھی سننے کیلئے وہ سب سننے سے محروم رہے، مگر ہاں گرودوارہ نے لنگر کو جاری رکھا اور اسطرح سے خدمتِ خلق انجام دیتے رہے۔

غرض عبادت گاہیں بند ہو گئیں عوام کے لیے وقتی طور پر، اور عبادت کرنے کے طریقے میں تبدیلی آئی، دینی کام جو عبادت گاہوں سے انجام دیے جاتے تھے رک گئے، انسان اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

تعلیمی اثر:

انسان کو انسانیت، آدمی کو آدمیت سکھانے کا کام علم کرتا ہے، علم جو سب سے بڑا گوہر، خزینہ او ربیش قیمتی اشیاؤں میں سر فہرست رہا ہے، استاد و تعلیمی مراکز سے ہی حاصل ہوتا ہے، تالا بندی کے نقصانات علمی مراکز و تعلیمی اداروں پر خوب پڑا ہے، تعلیمی مراکز بند ہو گئے، علم سیکھنے و سکھانے کا عمل ٹھہر سا گیا، اسکول، کالج، یونیورسٹی، مکتب، مدرسہ، کلیہ اورجامعہ سب بند ہو گئے، طلباء و طالبات گھروں کے قیدی ہو گئے، اُن کے مشاغل جو پڑھنے و پڑھانے کے تھے بند ہو گئے، اساتذہ گھروں پر رہے، اداروں کے بند ہونے سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی، جو امتحانات ہونے ابھی باقی تھے معلق ہوکر رہ گئے، استاد و شاگرد کا رشتہ منقطع ہو گیا، بچوں کا گھر سے نکلنا بند ہو گیا، گھر پر رہتے رہتے اوب سے گئے، ذہنی تھکاوٹ محسوس کرنے لگے، ذہنی و جسمانی نشو و نما رک گئی، تازہ ہوا کے جھونکوں سے پرہیز ہو گیا، دوستوں سے ملنا جلنا، گپیں مارنا، ڈینگیں ہانکنا، اپنی برتری ثابت کرنا، سب بند ہو گیا۔ سرکاری و غیر سرکاری ادارے، کوچنگ، کلاسز، ٹیوشن اورکمپیوٹر سینٹرپر تالے لگ گئے، غرض کہ تعلیم کا بڑا ہی نقصان ہوا، بڑے بڑے جامعات کے داخلے ٹیسٹ، میڈیکل کے داخلے ٹیسٹ، انجینیرنگ کے داخلے ٹیسٹ، اساتذہ اہلیتی امتحانات، جوصوبائی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونےتھےمعلق ہوکررہ گئے۔

مگر وہیں دوسری طرف ایک نئی راہ، نیا طرز، نیا طریقہ، نئی پہل اپنایا گیا جو موجودہ دور کا ہے، رائج تو ہو چکا تھا عرصہ پہلے مگر محدود دائرہ میں تھا، تالا بندی نے اسے فروغ دیا اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگا، اور مستقبل بھی اسی کا یعنی آن لائن پڑھائی کا، اپنے کو زمانے کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا ہے، شاید انٹرنیٹ و آن لائن کے ذریعہ تعلیم کو آف لائن کے متبادل کے طور پر آنے میں کافی وقت لگ جاتے جسے تالا بندی نے بڑی تیزی کے ساتھ انجام دے دیا، پڑھائی کا نقصان نہ ہو اور وقت کی بربادی نہ ہو اسی کےپیش نظر بہت سارے اسکول، کالج، یونیورسٹی، مکتب، جامعات و کوچنگ سینٹرز نے آن لائن کی تعلیم پر زور دیا اور موجودہ دور کے ٹولزاور سوفٹ ویئر کا استعمال کیا۔

آن لائن تعلیم ایک نیا متبادل کے طور پر ابھرا ہے جسکا فائدہ گاؤں، دیہاتوں، قصبوں میں رہنے والے کو بھر پور میسر نہیں، مگر اسکا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں ہر شخص، ہر علاقہ اور ہر امیر غریب اس سے مستفیض ہوں۔

طبی اثر:

 تالا بندی سے طبی خدمات بھی متاثر ہوئے۔ دوسرے مرضوں میں مبتلا لوگوں کو طبی سہولیات فراہم نہ ہونے سے لوگوں کی زندگی ‘ایک تو نیم دوجے کریلا’ کے مترادف بن گیا۔ کینسر کے مریض، دل کا مریض، اور حاملہ عورتوں کو تالا بندی کا شکار زیادہ ہونا پڑا، ہسپتال میں آنے جانے کی پریشانی، علاج کا صحیح سےنہیں ہو پانا، کرایوں کی مار وغیرہ نے حد سے زیادہ پریشان کیا، ہر طرف کورونا ہی کورونا کا رونا نظر آیا، ایسا محسوس ہوا جیسے Covid۔ 19 کے آنے سے ساری بیماریاں ختم ہو گئیں ہوں۔ طبیب، حکیم، ڈاکٹر لوگ خود کو بھی خوف ودہشت کی حالت میں پایا۔ایمرجنسی کی حالت میں کتنوں نے اپنی جان گنوائی، چھوٹی موٹی بیماری کے علاج کے لیے بھی ڈاکٹر نہیں مل رہے تھے، انکو بھی اپنی جان پیاری نظر آئی اور گلی محلوں میں اپنی کلینک کو بند رکھا۔

ماحولیاتی اثر:

 کورونا تالا بندی کے سبب آلودگی میں کمی واقع ہوئی، صنعتی انقلاب کے بعد آلودگی میں روز بروز اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا تھا، انسانی زندگی، حیوانوں کی زندگیاں، چرندوں، پرندوں و درندوں کی زندگیاں خطرے میں چلی آ رہی تھیں، جنہیں وقتی طور پر ہی صحیح خطرے سے آزادی ملی۔

صوتی آلودگی، آبی آلودگی، ہوائی یا فضائی آلودگی سے نباتات، حیوانات یا جمادات باہر آئے اور سکون و آرام کی سانس لی۔ کل کارخانوں، فیکٹریوں اور چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں و مضر گیسوں سے سانس کی شکایتوں، دمہ کے مریضوں میں اضافہ، کینسر کے و دیگر دوسری بیماریوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے، جس پر تالا بندی نے روک لگائی، تالا بندی ہونے پر فضا صاف ہوئی، مضر گیسوں کا اخراج نہ کے برابر رہا، سفر و نقل حمل پر روک لگنے سے، جہاز، ریل، بس، ٹرک اور کار وغیرہ کے چلنے سے خارج ہونے والے کاربن ڈائی آکسائڈ، سلفر و دیگر گیسوں کا اخراج کم ہوا جس نے فضا کو صاف و شفاف بنایا، سانس کے مریضوں میں کمی آئی۔

سینٹر فار انٹرنیشنل کلائمٹ ریسرچ کی ایک سینئر رکن کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائڈ سے ہونے والی آلودگی سے تقریباً 40 لاکھ لوگ پوری دنیا میں، سال بھر میں، دمہ کے شکار ہوتے ہیں، اسی تحقیق کے مطابق صرف بھارت میں 5300 جانیں محفوظ ہوئیں، 29 فیصد کی کمی نائٹروجن ڈائی آکسائڈ میں، اور اوزون میں 11 فیصد کی کمی پائی گئی تالا بندی کے دوران۔

فضا صاف ہونے سے دور دور تک کی عمارتیں صاف نظر آنے لگیں، آنکھوں کے جلن میں کمی آئی، اوزون پرت کے بھرنے لگنے سے کینسر کے مریضوں میں کمی پائی گئی، صنعتی سرگرمی و پیداوار و تعمیراتی کام سے نکلنے والی آلودگی کا مجموعی حصہ تقریباً %18.5 ہے۔ تالا بندی کے دوران یہ سرگرمیاں بند رہیں جسکی وجہ سے آلودگی کے ایک بڑے حصے سے فضا پاک و صاف رہا۔

گاڑیوں کی آمد و رفت نہ ہونے سے صوتی آلودگی سے بھی ذی روح محفوظ رہا، کارخانے و فیکٹریوں کے شور شرابے، گاڑیوں کی آواز سے، و تعمیراتی کام سے پیدا ہونے والی آواز سے انسانی دنیا و بستی محفوظ رہی، صوتی آلودگی سے انسان بہرہ تک ہو سکتا ہے جو اس دوران نہیں کے برابر رہا۔

مضر گیس کے ساتھ ساتھ کارخانوں و فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے مادے، و کچڑےنکلتے ہیں جسے ندی، نالےاور سمندروں میں بہا دیے جاتے ہیں جس سے آبی جانوروں کے بیمار پڑنے و مرنے کے خطرات بنے رہتے ہیں، آبی جانوروں میں جیسے مچھلی ہے اس زہریلے پانی میں مر جاتی ہیں۔

تالا بندی کے دوران ندی، نالوں اور سمندروں کے پانی صاف و شفاف ہو گئے، جس کی صرف تمنا انسان صدیوں سے کرتا رہا ہے مگر عملی اقدام اٹھانے سے کوسوں دور رہا ہے۔ ترقی کے نام پر آلودگی ہی آلودگی ہر طرف نظر آتی ہے۔

فضا کو مضر بنانے میں چین امریکہ، انگلینڈ و ترکی وغیرہ کے شہر سر فہرست رہے ہیں۔ تالا بندی میں چین سے مضر گیسوں کا اخراج تقریباً 50 فیصد کم ہوا۔ ہر بڑے شہر جو تالا بندی میں شریک تھے وہاں کی فضائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی۔آلودہ شہروں کی فہرست میں ہندوستان کی دار الحکومت دہلی کی فضا بھی بہت ہی صاف و شفاف نظر آیا، یہاں کی عمارتیں صاف نظر نہیں آتی تھیں وہ ایکدم سے صاف دکھائی دینے لگیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ تالا بندی کے دوران دنیا کی فضا خوشگوار، دلکش اور اچھا رہا، مگر زیادہ خوشی کا مقام نہیں کیونکہ پھر وہی دن و رات ہونے والی ہے، لوٹنے کا عمل شروع ہو گیا ہے، سب کچھ پہلے جیسا ہی ہونے والا ہے، یہ عارضی خوشی ہے کہ فضا خوشگوار ہے، موسم سہانا ہے، آسمان صاف ہے، موسم تبدیل ہو گیا ہے، یہ سب دیر پا نہیں بس عارضی ہے، تالا بندی ختم ہوتے ہی زندگی پھر اسی پٹری پر لوٹنے والی ہے، ماحولیاتی نظام مضبوط ہونا چاہیے۔

ایک طرف تو دنیا کا سارا نظام، طور طریقہ کام دھندہ، انسانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر کیے جاتے ہیں مگر وہیں دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی سے کتنوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے، ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ماحولیاتی نظام کا تاکہ زندگیاں بچائی جاسکے۔

 


متعلقہ پوسٹ

One Thought to “تالا بندی کے اثرات”

  1. Sagheer

    Ma sha Allah good tahreer
    Aur bahut hi aham malumat pesh ki

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں