کورونا وائرس آسان لفظوں میں

Coronavirus

 وائرس کیا ہوتا ہے؟

یہ ایک انتہائی مہین جراثیم ہوتا ہے جسے عام خوردبین سے دیکھنا بھی ممکن نہیں ہے، اور یہ اپنی بقاء کے لئے دیگر جاندار پر منحصر ہوتا ہے۔

 اب یہ کورونا وائرس کیا ہے؟

یہ انھیں وائرسیس کی ایک قسم ہے جو عموماً تو جانوروں میں پایاجاتاہے، لیکن جب انسان ایسے جانوروں کے رابطے میں آئے تو انسانوں میں داخل ہو کر انسانوں میں بھی مرض لاحق کرتا ہے۔ ہم انسانوں میں کورونا وائرس سب سے زیادہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتاہے اور عمل تنفس پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 تواریخ :

 ٢٠٠٢ء میں چین میں ایک وبا پھیلی جس نے چند ہی روز میں تقریباً ٢٦ ممالک کو اپنی زد میں لیا، تقریباً آٹھ ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے اور سات سے ساڑھے سات سو لوگ جاں بحق ہوئے۔ متاثرین کو سردی، نزلہ، زکام،بخار اور سانس لینے میں تکلیف جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس وبا کا موجب کورونا وائرس کا ایک ذیلی گروپ ہےجسے بعد میں SARS CoV نام دیا گیا اور اس وبا کو SARS کہا گیا۔

٢٠١٢ء میں سعودی عرب میں اسی طرح کی ایک وبا پھیلی، جس میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور آٹھ سو کے قریب لوگ لقمہ اجل ہوئے۔ یہ وبا بھی کورونا وائرس کے ایک الگ گروپ سے ہوئی تھی جسے MERS CoV کہا گیا اور اس وبا کو MERS نام دیا گیا ( مشرق وسطی میں ہونے والی عمل تنفس کو متاثر کرنے والی وبا)۔

 اور اب ایک بار پھر پورا کرہ  ارض ایک نئی  وبا کا شکار ہے۔ یہ مہلک وبا جسے ہم Covid-19 کے نام سے جان رہے ہیں،  Corona Virus Disease 2019 کے بنیاد پر اسے Covid-19 کہا جانے لگا۔ یہ ایک شدید عالمی وبا بن چکا ہے  جسے  SARS کا ہی ایک نیا روپ  SARS-CoV-2    مانا جا رہا ہے۔

یہ مرض دسمبر ٢٠١٩ ء میں چین کے ایک شہر ووہان سے شروع ہو  کر محض چند مہینوں میں ایک عالمگیر وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کےبیشتر ممالک اس کی زد میں آ چکے ہیں۔  تازہ  صورت حال کے مطابق ہر دن تقریباً لاکھوں  افراد اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ہزاروں  لوگوں کی جانیں جا رہیں ہیں۔ لگ بھگ ساڑھے پانچ لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں ہیں۔ دنیا کا کوئی حصہ کوئی خطہ اس وبا سے محفوظ نہ رہا۔

 ہمارے ملک ہندوستان میں کورونا کا پہلا مریض ٣٠ جنوری ٢٠٢٠ ء کو ملا اور اب محض چھ ماہ کے اندر پورا ملک اس وبا کی چپیٹ میں ہے۔ اب تک ہندوستان میں متاثرین کی تعداد پانچ لاکھ کے اوپر پہنچ چکی ہے اور سولہ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اور محض چندروز کے وقفے میں متاثرین کی تعداد پہلے سے دوگنی ہو رہی ہے۔ اس سے آپ اس وبا کی برق رفتاری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

نوٹ: اوپر کے اندراجات اس وقت کے ہیں جب یہ آرٹکل لکھا گیا، آپ کے پڑھنے کے وقت تعداد میں اور اضافہ ممکن ہے۔ تازہ رپورٹ کے لئے نیچے گئے لنک پر کلک کریں۔

https://www.worldometers.info/coronavirus

 ترسیل کے ذرائع :

 ١۔  چونکہ یہ مرض پھیپھڑوں پر اثرانداز ہوتا ہے اس لیے جب کوئی مریض کھانستا یا چھینکتا ہے تو منہ اور ناک سے خارج ہونے والے چھوٹے چھوٹے قطروں میں ( جنھیں ہم droplets کہتے ہیں) یہ وائرس وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، اور فضا کو آلودہ کر دیتا ہے، جب کوئی صحت مند شخص اسی فضا میں سانس لیتا ہے تو یہ وائرس اس کے جسم میں سرایت کر بیماری کا سبب بنتا ہے۔

٢۔  یہی droplets جب کسی سطح پر گرتے ہیں ، جیسے ٹیبل، کرسی، دروازے کی کنڈی یا موبائل فون وغیرہ تو اس پر یہ زیادہ سے زیادہ دو دنوں تک زندہ رہ سکتے ہیں، اور جب ایسی آلودہ سطح کو کوئی شخص چھوئے پھر بغیر ہاتھ دھوئے اپنی آنکھ، ناک یا چہرے کو چھوتا ہے تو ہاتھوں کے ذریعے یہ وائرس منتقل ہوتا ہے۔

٣۔  حفاظتی تدابیر اختیار کیے بغیر کورونا کے مریضوں کے ساتھ رہنا، باتیں کرنا ،ساتھ کھانا پینا، یا ان کی استعمال شدہ اشیاء بغیر دھوئے استعمال کرنا۔

کن لوگوں میں یہ مرض زیادہ مہلک ہے؟

 یوں تو کورونا کے قہر سے کوئی محفوظ نہیں لیکن آبادی کی درج ذیل جماعت کے لئے یہ مرض زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے، انھیں ہم ” ہائی رسک گروپ ” کہتے ہیں۔

١) ضعیف ، نا تواں افراد

٢) ذیابیطس، بلڈ پریشر، کینسر ، دمہ اور دیگر بیماریوں سے متاثر افراد

شرح اموات:

 عام طور پر تو اس مرض کی شرح اموات 5-4 فیصدی ہے۔ لیکن ” ہائی رسک گروپ ” میں یہ بڑھ کر 15-10 فیصدی تک ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اٹلی میں دیکھا، چیونکہ اٹلی کی آبادی کا بیشتر حصہ ضعیفوں پر مشتمل ہے اس لیے وہاں شرح اموات 10 فیصدی تک دیکھی گئی۔ چین میں یہ 5-4 فیصد تھی اور ہمارے ملک ہندوستان میں 3-2.5 فیصد بتائی جا رہی ہے لیکن مرنے والوں میں زیادہ تر لوگ ” ہائی رسک گروپ ” میں سے ہوتے ہیں۔

بیماری کی علامتیں:

 بیماری کی علامتوں کو شدت کے اعتبار سے تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

١۔   پہلا درجہ:  81 فیصد لوگوں میں بالکل عام نزلہ زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسے سردی، کھانسی، بخار، بدن درد، گلہ میں درد اور کمزوری وغیرہ۔ ایسے مریض اکثر بغیر کسی علاج کے یا پھر بس معمولی علاج سے صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بس quarantine کی مدت تک یعنی 14 دنوں تک isolate کرنا ہی کافی ہوتا ہے تاکہ یہ دوسروں کو مرض نہ دیں سکیں۔

٢۔  دوسرا درجہ:  14 فیصد لوگوں میں مرض کچھ زیادہ شدید ہوتا ہے، ان میں اوپر کی علامتوں کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں دشواری اور سانس کا پھولنا جیسی علامتیں بھی دکھائی دیتی ہیں، بر وقت علاج سے اور آکسیجن سے ان میں سے بھی اکثر افراد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

٣۔   آخری درجہ: 5 فیصد لوگوں میں یہ مرض آخری درجہ تک پہچتا ہے اور عمل تنفس مفلوج ہو جاتا ہے اب یہ خود سے سانس نہیں لے سکتے بلکہ مشینوں (ventilators) کی ضرورت پڑتی ہے، ان میں سے اکثر لوگ اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔

علاج:

 انتہا کوششوں اور تحقیقات کے بعد بھی اب تک اس مرض کا کوئی دائمی اور حتمی علاج نہیں دریافت کیا جا سکا اور نہ ہی کوئی ویکسن (vaccine) موجود ہے۔ ہر علاج بس تحقیقی مرحلے میں ہے، لیکن کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ جلد کامیابی ملے گی اور یہ جنگ بھی انسان جیت جائے گا۔

احتیاطی تدابیر:

 چیونکہ اس مرض کا اب تک کوئی حتمی علاج موجود نہیں اس لئے احتیاط ہی سب سے بڑا اور موثر ہتھیار ہے۔ ہمارے ملک میں جو ٢٣ مارچ سے لاک ڈاؤن شروع ہے وہ اسی ضمن میں ہے۔ لوگ جتنا بھیڑ بھاڑ سے، لوگوں سے ملنے جلنے سے اجتناب کریں گے اتنا ہی کم یہ وائرس پھیلے گا جسے ہم ” سوشل ڈسٹنسنگ ” کہہ رہے ہیں یعنی عوامی جگہوں پر دو لوگوں کے درمیان فاصلہ بنائے رکھنا۔

 ایک تحقیق سے ثابت ہے کہ کورونا کا ایک مریض اپنے ٹھیک ہونے تک 2.5 فیصد لوگوں کو یہ مرض منتقل کرتا ہے، اس حساب سے اگر 75 فیصد سوشل ڈسٹنسنگ حاصل کر لیتے ہیں تو ایک مریض ایک مہینے میں 3-2 لوگوں کو متاثر کرے گا اور اس کے بر عکس اگر سوشل ڈسٹنسنگ کا بالکل خیال نہ رکھا جائے تو یہی مریض ایک مہینے میں 406 لوگوں کو مرض منتقل کرے گا۔

 اس طرح سوشل ڈسٹنسنگ کی اہمیت و افادیت ہمارے سامنے ہے۔ احتیاط ہی اس مرض پر قابو پانے کا واحد اور کارآمد ذریعہ ہے اور سوشل ڈسٹنسنگ ہی سب سے اہم احتیاط ہے۔

 جس جگہ ہم لوگوں سے ملنے جلنے سے پرہیز نہیں کر سکتے جیسے ہاسپٹل، بازار اور دیگر عوامی جگہ، ایسی جگہوں پر حفظان صحت(hygiene)  کے تمام اصولوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

کیا کرنا ہے:

١) کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک پر رومال یا ٹشو پیپر رکھیں۔

٢)  رومال کو اچھی طرح سے دھوئیں اور ٹشو پیپر کو ڈھکن پیک ڈسٹ بن میں ڈالیں۔

٣)  اپنے ہاتھوں اور چہرے کو بار بار پانی اور صابن سے اچھی طرح دھوئیں ۔

٤) دروازے کی کنڈی اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو پکڑنے کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال کریں۔

٥) عوامی جگہوں پر لوگوں سے کم سے کم ایک میٹر کا فاصلہ بر قرار رکھیں۔

٦) باہر سے گھر میں داخل ہونے پر اپنے ہاتھوں، پاؤں اور چہرے کو اچھی طرح دھوئیں ۔

کیا نہ کرنا ہے :

١)  منہ اور ناک کو ڈھکنے کے لئے ہتھیلی کا استعمال نہ کریں، اگر رومال نہ ہو تو کہنی کا استعمال کریں۔

٢)  بغیر ہاتھ دھوئے اپنے چہرے اور ناک کو نہ چھویں۔

٣)  بلا ضرورت بھیڑ بھاڑ( رش) والی جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں۔

 


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں