ہم عید میلاد النبی کیوں نہ منائیں؟

Eid Milad un Nabi

دستورِ دنیا ہے کہ نعمتوں کے حصول پر انسان خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اورپھر جیسی نعمت ویسی اظہارِ خوشی بھی ہوتی ہے۔ محسنِ کائنات ، شہنشاہِ عرب وعجم حضور پُر نور ﷺتو اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت ہیں جو ہمیں عطا ہوئی، کیوں کہ سوائے جملہ نعمتوں کے اس نعمتِ کبریٰ کی بخشش پر رب عزوجل نے احسان جتایا۔ ارشاد ہے۔

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً

ترجمہ:مومنوں پر اللہ کا احسان ہوا کہ ان میں انہیں میں کا ایک رسول بھیجا۔

یہ ظاہر ہے کہ احسان کسی عظیم شئی کی بخشش و عطا پر جتایا جاتا ہےاسی سے معلوم ہوا اورہر ایک پر عیاں بھی ہے کہ سرکار ﷺ اللہ کی عظیم نعمت ہیں ۔ مگر ماہِ ربیع النور کے آتے ہی جہاں عاشقانِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا کے چہرے کِھل جاتے ہیں اور اپنے گھروں، گلیوں اور شاہراہوں کو سجاتے اور چراغاں کرتے ہیں ، جلسہ و جلوس کی شکل میں اپنے آقا سے اپنی قلبی محبت و مؤدت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔اور کیوں نہ ہوکہ اللہ رب العزت نے ہمارے نبی کو اپنی ذات کا مظہر بنایا ہے، جن کی آمد سے صنم کدۂ جہاں سے کفر والحاد اور شرک کی ظلمتیں مٹیں ، جن کی آمد سے زندہ در گور ہونے والی بچیوں اور مظلموں ، بے کسوں ، بے سہاروں ، یتیموں اور بیواؤں کو سہارا ملا، ظلم وجہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے والوں کو نور کی جگمگاہٹ ملی اور اندھیری رات کے مسافروں کو راہِ ہدایت نصیب ہوئی، ان کی میلادہے پھر بھلا وجہِ مسرت اور کیا چاہیے۔

لیکن ایسے موقع پر کچھ لوگوں کے چہرے اترے اور وہ کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ دلوں سے جذبۂ عشقِ حضور نکال دیں اور ماہِ ربیع النور کی اہمیت ختم کردیں ۔اور ان کی طرح کوئی بھی ’’ عید میلاد النبی ﷺ نہ منائے، مگر جن کے دلوں میں چراغِ عشقِ نبی روشن ہو، جن کی دھڑکنوں میں مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ بساکرتے ہوں وہ اس دن کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں جس دن اللہ رب العزت نے اپنی سب سے عظیم نعمت اپنے حبیب کی شکل میں عطا فرمایا۔

عاشقانِ حضور کو ’’ عید میلاد النبی ﷺ‘‘ منانے کے لیے کسی دلیل وحجت کی قطعی حاجت ہی نہیں کہ ان کے نزدیک تو سب سے بڑی دلیل آقائے دوعالم کی آمد ہی ہے، جلنے والے جلیں کیا فرق پڑتا ہے۔

خاک ہوجائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا

دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے

(شعر رضا)

اس کے باوجودمضبوط دلائل و شواہد بھی رکھاکرتے ہیں تاکہ منکروں کو اس کارِ خیر پر لب کشائی کی جرأت نہ ہوسکے۔

دلائل کی سماعت سے قبل ہمیں جاننا چاہیے کہ ’’ عید میلاد النبی ‘‘ ہے کیا اور کیوں ہم مناتے ہیں ۔

عید: عید کا لغوی معنیٰ ہے۔’’جو بار بار آئے‘‘ ’’مسلمانوں کے جشن کا روز‘‘ ’’خوشی کا تہوار‘‘ ’’نہایت خوشی‘‘ (فیروز اللغات- ص:۹۰۸)

اور فیروز اللغات کے مذکورہ صفحہ پر ہی نیچے’’ عید میلاد‘‘ کا معنیٰ یہ درج ہے’’پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن‘‘

مولود: پیدائش کا دن ، وہ مجلس جس میں حضور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی پیدائش کا بیان کیا جائے۔ (فیروز اللغات ص: ۱۳۱۸)

میلاد: پیدا ہونے کا زمانہ، پیدائش کا وقت، پیدائش ۔ (فیروز اللغات ص: ۱۳۳۲)

میلاد النبی: رسولِ اکرم ﷺ کی پیدائش، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن (فیروز اللغات ص: ۱۳۳۲)

 اسی طرح المعجم المفہرس میں ہے کہ میلاد عربی زبان کا لفظ ہے ۔ اس کا مادہ ’’ ولد‘‘ (و ل د ) ہے میلاد عام طور پر اس وقت ولادت کے معنوں میں مستعمل ہے۔ میلاد اسم ظرفِ زمان ہے۔ قرآن مجید میں مادہ ولد کل ۹۳/ مرتبہ آیا ہے اور کلمہ مولود ۳/ مرتبہ آیا ہے۔

(المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم ص: ۷۶۴-۷۶۳)

 تو ظاہر ہوا کہ عید میلاد النبی کا معنیٰ ہوا نبی ﷺ کی پیدائش کی خوشی۔ اب اگر قرآنِ مقدس کا مطالعہ کریں کہ آیا اس میں کسی کی میلاد کا ذکر ہے یا نہیں ؟یاصحیح معنوں میں میلاد منانا بدعت ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔تو جونہی قرآنِ مقدس کی پہلے جز کی ورق گردانی شروع کریں گے حضرت آدم علیہ السلام کی میلاد آجائے گی۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِاِنِّی جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃْ سےشروع ہوکر وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُولٰئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خلِدُوْنَ تک حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکرِ جمیل اور ساتھ ہی دیگر حالات کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔

 اور پھر پیدائش کا تفصیلی ذکر اس انداز میں وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ اِنِّی خَالِقٌ بَشَرًامِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۰ فَاِذَا سَوَّیْتَہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۰ فَسَجَدَ الْمَلٰئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۰ اِلَّا اِبْلِیْسَ اَبیٰ اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اوریاد کرو جب تمھارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے، تو جب اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معزز روح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا، تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے سوا ابلیس کے ، اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا۔(پارہ ۱۴/ رکوع :۲)

 سورۂ قصص میں اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش،پرورش ، بچپن ،جوانی اور فرعون کے دربار میں جاکر درس توحید و رسالت دینےاور معجزات وغیرہ ہر چیز کا تفصیلی بیان فرمایا۔

اور پھرسورۂ آل عمران میں اللہ رب العزت نے حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا۔

وَاِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّی نَذَرْتُ لَکَ مَافِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّی اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمْ۰ فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّی وَضَعْتُھَا اُنْثیٰ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثیٰ وَاِنِّی سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَاِنِّی اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتُھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

ترجمہ کنز الایمان : پھر جب اسے جنی بولی اے رب میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں ، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے۔

 (پارہ ۳ / ص:۵۵ )

اس کے علاوہ اس سورت میں حضرت زکریا و یحیٰ علیھما السلام کے تعلق سے بھی تذکرہ ہے۔

پھر اللہ رب العزت نے سورۂ مریم میں حضرت یحیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا مفصل تذکرہ فرمایااور ان کی پیدائش کے تذکرے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ حضرت یحیٰ کے متعلق فرمایا ’’سلامتی ہو اس دن پر جس دن وہ پیدا کیے گئے ،جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن زندہ اٹھائے جائیں گے‘‘۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل فرمایا :

’’ وَالسَّلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا‘‘

ترجمہ: اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا ، اورجس دن میں مروں گا اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا۔

اور تعجب تو یہ ہے کہ ان آیتوں کی نہ تو تلاوت منسوخ ہے اور نہ ہی حکم منسوخ گویا آج تک حضرت یحیٰ و عیسیٰ کی پیدائش کے دن پر سلامتی ہی سلامتی ہے تو پھر نبی الانبیا اور سید الانبیا کی پیدائش کا دن سلامتی کا دن کیوں نہ ہوگا؟

ان آیات سے یہی ثابت ہوا کہ میلاد النبی کے دن حضور پر سلام ، حضور کی پیدائش کے دن پر بھی سلام بھیجا جاسکتا ہے۔ اور یہی تو ہمیں امام احمد رضا نے سکھایاہے۔

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

سورۂ یوسف میں اللہ رب العزت نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن ، جوانی ، قید و بند ، بادشاہت اور آزمائش وغیرہ کا تذکرہ فرمایا۔ ان کے علاوہ دیگر انبیاء علیھم السلام کی میلاد، ان کے تذکرےجابجا قرآنِ مقدس میں ملتے ہیں تو جب ان انبیاء علیھم السلام ودیگر انبیاکی میلاد خود اللہ رب العزت نے بیان فرمائی پھر ہم ان نبیوں کے سردار، نبی الانبیاء، سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد کیوں نہ منائیں کیوں نہ آمدِ سرکار پر خوشیاں منائی جائیں ؟

نثار تیری چہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں

جیسا کہ یہ بات ثابت ہوئی کہ میلاد نبیٔ پاک ﷺ کی پیدائش یا دنیا میں مبعوث ہونے کے تذکرہ کو کہتے ہیں اور جب ایسی بات ہےتو اللہ رب العزت نے انبیاء علیھم السلام کی مقدس ارواح کی موجودگی میں نبی کی میلاد کا تذکرہ فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

وَاِذْاَخَذَاللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُوْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلیٰ ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ

ترجمۂ کنز الایمان: اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں گا پھر تشریف لائے تمھارے پاس و ہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمھارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔ (پارہ :۳/ ص: ۶۱)

اس آیتِ کریمہ میں اللہ رب العزت نے سرکارِ مدینہ ﷺ کی بعثت کا تذکرہ فرماکر تما م انبیاء ومرسلین کو ان پرایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا پابند بنایا۔ تو معلوم ہوا کہ حضور کی میلاد یعنی آپ ﷺ کی پیدائش کا تذکرہ کرنا اللہ رب العزت کی سنت اور سننا انبیاء ومرسلین کی سنت پھر ہم کیوں نہ میلاد منائیں؟

 تمام انبیاء نے حضور کی میلاد یعنی آپ کی پیدائش کی خوشخبری اپنی اپنی امت کو دی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن میں بھی ملتا ہے۔

وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِ ی اسْمُہٗ اَحْمَدْ

ترجمہ: اور یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا، اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے۔ (پارہ ۲۸/ سورہ ٔ صف )

یعنی میرے آقا کی میلاد منانا اور آپ ﷺ کی آ مد بہت پہلے آنے کی خوشخبری سناناحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی سنت ہے۔ اور لطف تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن میں ان کا قول نقل فرمایا اور یہ فرمایا کہ ’’ یاد کرو‘‘ اب جب جب قرآن کی اس آیتِ کریمہ کی تلاوت ہوگی رسول اللہ ﷺ کی میلاد یاد دلائی جاتی رہے گی ۔ پھر ہم کیوں نہ میلاد منائیں ؟

اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی نعمتوں ، رحمتوں اور فضل وکرم کے حصول پرخوشیاں منانے کا حکم دیا ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ

ترجمہ: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔ (پارہ ۱۱/ سورۂ یونس )

اللہ کی نعمتیں، رحمتیں اور اس کا فضل کس قدر ہے اس کا کوئی شمار کرنا چاہے تو ممکن ہی نہیں ہے اور ان تمام نعمتوں اور رحمتوں میں سب سے بڑی نعمت و رحمت ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ تمام نعمتیں اور فضل وکرم اِ سی ایک نعمت کے صدقے میں ہیں تو کیوں نہ سب سے بڑی نعمت کے حصول پر خوب خوشیاں منائی جائیں۔

اللہ کے رسول ہمارے پیارے آقا ﷺ نے خود اپنی پیدائش کی خوشی میں روزے رکھے بلکہ جب جب وہ دن آتا روزہ رکھتے ۔

 حدیثِ پاک میں ہے

’’ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْاِثْنَیْنِ ؟ قَالَ ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْہِ وَیَوْمٌ بُعِثْتُ اَوْ اُنْزِلَ عَلَیَّ فِیْہِ ‘‘

 (صحیح مسلم کتاب الصوم باب استحباب صیام ثلٰثۃ ایام)

حضور نبی اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اوراسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔

 آج تو لوگ سال میں ایک مرتبہ عید میلاد النبی منائے جانے پر اس قدر واویلا مچاتے ہیں مگر پیارے آقا ﷺ نے تو ہر پیر کے روز اپنی ولادت کی خوشی میں روزے رکھے ہیں ۔ پھر ہم کیوں نہ میلاد منائیں۔

اور اسی طرح صحابۂ کرام نے بھی اپنے آقا ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا اور محفل منعقد کی۔ چنانچہ امام بخاری کے استاد امام احمد بن حنبل لکھتے ہیں ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کا اپنے اصحاب کے ایک حلقہ سے گزر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا مااجلسکم تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انھوں نے کہا جلسنا ندعوا اللہ ونحمدہ علیٰ ماھدانا لدینہ ومن علینا بک ہم اللہ عزوجل کا ذکر کرنے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی اس پر اس کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اس نے آپ ﷺ کو بھیج کر ہم پر جو احسان کیا اس کا ذکر کرنے کے لیے یہ جلسہ منعقد کیا ہے۔ آپ نے فرمایا، "آللہ مااجلسکم الا ذالک”۔ بخدا تم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا، آللہ ما اجلسنا الا بذالک۔ آپ نے فرمایا، اما انی لم استحلفکم تھمۃ لکم وانما اتانی جبریل علیہ السلام فاخبرنی ان اللہ عزوجل یباھی بکم الملٰئکۃ۔ میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی لیکن ابھی جبرئیل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل تمھاری وجہ سے فرشتوں میں فخر فرمارہا ہے۔  (نسائی جلد ۲/ ص: ۳۱۰)

اسی طرح احادیث کی کتابوں میں بہت زیادہ احادیث ہیں کہ صحابۂ کرام کے مجمع یا ان کی مجلس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی پیدائش ، اپنی خاندانی وجاہت، اور اپنی عزو شرف کا تذکرہ فرمایا۔اس تناظر میں بھی ایک حدیثِ پاک پیش ہے۔

وعن ابن عباس قال: جلس ناس من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فخرج حتیٰ اذا دنا منھم سمعھم یتذاکرون قال بعضھم : ان اللہ اتخذ ابراہیم خلیلا وقال آخر: موسیٰ کلمہ اللہ تکلیما وقال آخر: فعیسیٰ کلمۃ اللہ و روحہ، وقال آخر : آدم اصطفاہ اللہ فخرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال:(وقال سمعت کلامکم و عجبکم ان ابراہیم خلیل اللہ وھو کذالک و آدم اصطفاہ اللہ وھو کذالک الا وانا حبیب اللہ ولا فخر وانا حامل لواء الحمد یوم القیمامۃ تحتہ آدم فمن دونہ ولا فخر وانا اول شافع واول مشفع یوم القیامۃ ولا فخر وانا اول من یحرک حلق الجنۃ فیفتح اللہ لی فیدخلنیھا ومعی فقراء المؤمنین ولا فخر وانا اکرم الاولین والآخرین علی اللہ ولا فخر۔

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ میں کچھ لوگ بیٹھے پھر حضور انور ﷺتشریف لائے حتیٰ کہ ان حضرات سے قریب ہوگئے تو انہیں کچھ تذکرہ کرتے سنا ان میں سے بعض نے کہا کہ اللہ نے حضرت ابراہیم کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا، ایک اور صاحب بولے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں ، ایک دوسرے نے کہا آدم کو اللہ نے برگزیدہ کرلیا۔ تب ان کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ہم نے تمھاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا یقیناً ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور آدم علیہ السلام کو اللہ نے چن لیا واقعی وہ ایسے ہی ہیں مگر یاد رکھو کہ میں اللہ کا محبوب ہوں ، فخریہ نہیں کہتا، قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میں ہی اٹھائے ہوئے ہوں گا جس کے نیچے آدم اور ان کے سوا ہوں گے فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا مقبول الشفاعت قیامت کے دن میں ہوں گا اور فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا و ہ شخص ہوں جو جنت کی زنجیر ہلائےگا تب اللہ کھولے گا پھر اس میں مجھے داخل کرے گا میرے ساتھ فقرا مسلمان ہوں گے فخریہ نہیں کہتا میں سارے اگلے پچھلوں میں اللہ کے نزدیک عزت والا ہوں فخریہ نہیں کہتا۔

(مشکوٰۃ المصابیح باب فضائل سیدالمرسلین ص: ۵۱۳)

سبحان اللہ ! اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے صحابہ کے مجمع میں اپنا ذکرِ جمیل فرمایا اور صحابۂ کرام نے دیگر انبیا و مرسلین کا ذکر فرمایا تو آپ ﷺ نے ان کی تائیدو توثیق فرمائی اور ساتھ ہی بتادیا کہ سب کے مراتب اپنی جگہ ہیں مگر میں اللہ کا محبوب ہوں اور مجھ سے بڑا مرتبہ کسی کا نہیں۔ خواہ ماہِ ربیع الاول میں یہ تذکرے کریں یا کسی اور مہینے میں ہے تو آقا ﷺ کی تعریف و توصیف اور ان کی مدحت سرائی ہی نہ ؟

تو جب اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کی مقدس جماعت میں اپنی میلاد منایا پھر ہم کیوں نہ میلاد منائیں؟

 کچھ لوگوں کو میلاد سے کوئی دقت نہیں بس ’’ عید‘‘ سے ہے کہ میلاد النبی تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ عید کیوں ؟ عید تو دو ہی ہیں یہ تیسری عید کہاں سے آگئی؟ تو ملاحظہ ہو۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ اِنَّ ھٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ جَعَلَہُ اللہُ لِلْمُسْلِمِیْنَ فَمَنْ جَاءَ اِلیٰ الْجُمُعَۃِ فَلْیَغْتَسِلْ ، وَاِنْ کَانَ طِیْبٌ فَلْیَمَسَّ مِنْہُ، وَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَاکِ

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : اللہ رب العزت نے جمعہ کےدن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے، جو شخص نمازِ جمعہ کے لیے آئے اسے چاہیے کہ غسل کرلے اور اگر ہوسکے تو خوشبو لگائے اور مسواک کا ضرور اہتمام کرے۔ (سنن ابن ماجہ : رقم الحدیث ۱۰۹۸)

معلوم ہوا کہ عیدیں صرف دو ہی نہیں بلکہ مہینے میں مسلمانوں کے لیے چار عیدیں آتی ہیں اور سال میں یہ عیدیں ۴۸/ ہوجاتی ہیں اور عیدالفطر اور عید الاضحیٰ ملا کر سال میں کل پچاس عیدیں ہوجاتی ہیں ۔

 اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رب کی بارگاہ میں دعا کی:

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَۃً مِّنَ السَّمَاءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدً ا لِّاَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنْکَ

ترجمہ: اے اللہ اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے، پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی (پارہ ۷/ سورہ مائدہ)

معلوم ہوا کہ کسی عظیم نعمت کے حصول کے دن کو ’’ عید‘‘ بنانا ایک نبی کی سنت ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا ہمارے لیے عید ہو بلکہ کہا اگلے پچھلوں کے لیے بھی اب بعد میں آنے والے لوگ اس دن کو کیسے پاسکتے ہیں جس دن آسمانی نعمت حاصل ہوئی تو ظاہر سی بات ہے کہ اس دن کی یاد ہی منائیں گے نہ

جب ایک نعمت کے حصول کے دن کو عید بنایا جاسکتا ہے تو وہ دن جو تمام نعمتوں کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ ہے ، جس دن اللہ کی سب سے بڑی نعمت ملی کیا اس دن کی یاد ہم نہ منائیں ؟ یقیناً عاشقانِ رسول کا طریقہ ہے اور رہے گا کہ جب جب وہ دن آیا جس دن میں ہمارے آقا ﷺ کی بعثت ہوئی انھوں نے مختلف طریقوں اور جداگانہ انداز میں خوشیوں کا اہتمام کیا ،اور ان شاء اللہ کرتے ہی رہیں گے ۔

حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولیٰ کی دھوم

مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

خاک ہوجائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا

دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے


متعلقہ پوسٹ

اپنا تبصرہ ‎شامل کریں